تہران (ویب ڈیسک):ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ملک پر مسلط کردہ امریکہ-اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں پاکستان اور ملائیشیا کے کلیدی کردار کی تعریف کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور ملائیشیا کے وزرائے اعظم سے گفتگو میں سفارت کاری کے لیے ایران کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی تمام شعبوں میں مسلم اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن فدا حسین مالکی نے اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے دوران ایران کی بیشتر تجاویز کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم تہران کو اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع ردعمل اور وعدہ خلافی کی عادت پر تشویش ہے، جس کا مشاہدہ حالیہ دنوں میں بارہا کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کی ہے اور رپورٹس کے مطابق معاہدہ فائنل ہو چکا ہے، جو اب صرف صدر ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سمیت اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ اس مجوزہ معاہدے کا مسودہ (ڈرافٹ) شیئر کر دیا ہے۔ اس مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت مندرجہ ذیل اہم نکات سامنے آئے ہیں:
تجارتی راستوں کی بحالی: جنگ کے باعث بند ہونے والی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو معاہدے کے 30 دنوں کے اندر تنازع سے پہلے کی آپریشنل سطح پر بحال کر دیا جائے گا۔
منجمد اثاثوں کی واپسی: امریکہ کی جانب سے اقتصادی ناکہ بندی میں نرمی کی جائے گی اور ایران کو بیرون ملک منجمد اس کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں تک رسائی دی جائے گی۔
سپر پاور چین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حتمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق اقوام متحدہ (UN) سے کرائی جائے تاکہ اس کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
