اسلام آباد (ویب ڈیسک): وزارتِ انسانی حقوق نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) پاکستان کے تعاون سے ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کے خلاف پاکستان کی پہلی قومی حکمتِ عملی متعارف کرا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کو آن لائن ہراسانی اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ فراہم کرنا اور ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینا ہے۔

اس حکمتِ عملی کا باضابطہ افتتاح وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا۔ تقریب میں سرکاری اداروں، پارلیمنٹ، بین الاقوامی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور اس منصوبے کے مؤثر نفاذ اور اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

قومی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد آن لائن پلیٹ فارمز پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہونے والے تشدد کا مؤثر سدباب کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت متاثرہ افراد کو حقوق پر مبنی اور مربوط امدادی نظام فراہم کیا جائے گا، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور جامع بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اس حکمتِ عملی کے ذریعے ڈیجیٹل تشدد کے خلاف قانونی اور ادارہ جاتی کارروائی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق، رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ، یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئیل رزق اور فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے ڈائریکٹر سیم والڈاک نے خواتین کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور بااعتماد شرکت کو یقینی بنانے کے لیے آگاہی، مؤثر پالیسی سازی اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں یہ قومی حکمتِ عملی پاکستان میں ایک محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
