نیویارک: مشہور قانون دان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ترین ناقد جارج کونوے نے نیویارک کے 12ویں حلقے سے کانگریس کی دوڑ میں شامل ہو کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
طویل عرصے سے اس نشست پر براجمان جیری نیڈلر کی ریٹائرمنٹ کے بعد، کونوے نے واضح کیا ہے کہ وہ روایتی سیاست دان بننے یا دہائیوں تک ایوان میں رہنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔
پی آئی ایکس (PIX) آن پولیٹکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کونوے نے اپنے “ٹو ٹرم پلان” (دو مدتوں کا منصوبہ) کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا، “میں 30 سال کانگریس میں نہیں گزارنا چاہتا۔ میرا ہدف پہلے دو سالوں میں ٹرمپ کے اثرات کا خاتمہ اور اگلے دو سالوں میں امریکی قانونی ڈھانچے کی ایسی ‘تعمیرِ نو’ کرنا ہے کہ جمہوریت کو دوبارہ خطرہ نہ ہو۔”
کونوے نے مقامی مسائل پر بھی اپنا موقف واضح کرتے ہوئے امیر طبقے پر ریاستی ٹیکسوں کی حمایت کی اور وفاقی ‘SALT’ کٹوتیوں کی بحالی پر زور دیا۔ ان کا مقابلہ جیک شلوسبرگ (جان ایف کینیڈی کے نواسے) اور میکاہ لیشر جیسے مضبوط امیدواروں سے ہے، تاہم کونوے کا کہنا ہے کہ وہ اپنا کام مکمل کر کے نوجوان قیادت کے لیے راستہ صاف کر دیں گے۔
