نیویارک: سٹی حکام نے برونکس کے دو بڑے رہائشی منصوبوں کے مالکان پر 31 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ کارروائی عمارتوں کی ناگفتہ بہ حالت، چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کی بہتات، لفٹ کی خرابی، اور گرم پانی و ہیٹنگ کی عدم فراہمی جیسی سیکڑوں شکایات کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
جرمانے کا سامنا کرنے والے مالکان، کرن سنگھ اور راجمتی پرساد، طویل عرصے سے ‘بدترین لینڈ لارڈز’ کی فہرست میں شامل تھے۔ ان کی ملکیت میں موجود ‘رابرٹ فلٹن ٹیرس’ اور ‘فورڈہم ٹاورز’ میں رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ میئر ممدانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “کوئی بھی مالکِ مکان قانون سے بالاتر نہیں ہے، اور ہر شہری باوقار رہائش کا حق رکھتا ہے۔”
حکام کے مطابق مجموعی 31 ملین ڈالر میں سے 30 ملین ڈالر براہ راست عمارتوں کی مرمت اور اپ گریڈیشن پر خرچ ہوں گے۔
فوری مرمت کے لیے مالکان کے اکاؤنٹس سے 9 لاکھ ڈالر پہلے ہی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
مرمت کے کام کی نگرانی کے لیے ایک ‘چیف ریسٹرکچرنگ آفیسر’ مقرر کیا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
ایچ پی ڈی (HPD) کمشنر ڈینا لیوی نے اسے ایک “نیا باب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرمانہ دیوالیہ پن کی کارروائیوں میں شہر کو برتری دلائے گا، جس سے رہائشیوں کے لیے بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔
انتظامیہ نے ‘فینی مے’ (Fannie Mae) سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ ان عمارتوں کے لیے ایسا خریدار تلاش کیا جا سکے جو ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
