Uber Introduces Women Drivers Option Across the US Amid Safety Concerns

اس اقدام کا مقصد خواتین کے تحفظ سے متعلق دیرینہ خدشات کو دور کرنا ہے، تاہم اسے مرد ڈرائیورز کی جانب سے قانونی چیلنجز کا سامنا ہے

Editor News

نیویارک (ویب ڈیسک): مشہور رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر (Uber) نے پیر کے روز پورے امریکہ میں ایک نیا فیچر لانچ کیا ہے جس کے تحت خواتین مسافروں کو خواتین ڈرائیورز کے ساتھ میچ کیا جا سکے گا۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کے تحفظ سے متعلق دیرینہ خدشات کو دور کرنا ہے، تاہم اسے مرد ڈرائیورز کی جانب سے قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

اوبر کی ایپ میں اب “Women Drivers” کے نام سے ایک آپشن موجود ہوگا جس کے ذریعے:خواتین مسافر خاتون ڈرائیور کی درخواست کر سکیں گی۔

اگر انتظار کا وقت زیادہ ہو تو مسافر دوسرا آپشن منتخب کر سکتے ہیں۔

خواتین ڈرائیورز بھی اپنی ترجیحات میں صرف خواتین مسافروں کو منتخب کر سکیں گی۔

یہ فیچر ٹین ایج (Teen) اکاؤنٹس کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔

اس پالیسی کے خلاف کیلیفورنیا میں ایک کلاس ایکشن مقدمہ (Class Action Lawsuit) دائر کیا گیا ہے۔ مرد ڈرائیورز کا موقف ہے کہ یہ فیچر مردوں کے خلاف امتیازی سلوک ہے۔

خواتین ڈرائیورز کو تمام مسافروں تک رسائی حاصل ہے، جبکہ مرد ڈرائیورز کے لیے مسافروں کا دائرہ محدود ہو گیا ہے۔

یہ پالیسی اس دقیانوسی تصور کو فروغ دیتی ہے کہ “مرد، خواتین کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔”

اوبر کے ساتھ ساتھ اس کی حریف کمپنی لیفت (Lyft) کو بھی اپنے “Women+Connect” فیچر پر اسی طرح کے مقدمات کا سامنا ہے۔

اوبر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس کے ڈرائیورز کا پانچواں حصہ (تقریباً 20%) خواتین پر مشتمل ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیچر خواتین کی حفاظت اور راحت کے لیے ایک “فہم و فراست” پر مبنی حل ہے۔

اوبر کے مطابق 2017-2018 میں جنسی ہراسانی کے 5,981 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

2021-2022 کے ڈیٹا کے مطابق یہ تعداد کم ہو کر 2,717 رہ گئی ہے، جو کل اسفار کا محض 0.0001% ہے۔

حال ہی میں ایک وفاقی جیوری نے اوبر کو 2023 کے ایک ریپ کیس میں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے متاثرہ خاتون کو 8.5 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اوبر نے اس فیچر کا سب سے پہلے آغاز 2019 میں سعودی عرب سے کیا تھا جب وہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملی۔ اب یہ سہولت کینیڈا اور میکسیکو سمیت 40 ممالک میں دستیاب ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *