Vijay’s Political Debut Turns Historic, Falls Just Short of Majority

ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ لوگ پرانی جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور وجے ایک "نئی امید" بن کر ابھرے ہیں۔

Editor News

چنئی: بھارتی ریاست تمل ناڈو میں فلمی ستارے سے سیاستدان بننے والے سی جوزف وجے نے تاریخ رقم کر دی۔ ان کی نو آموز جماعت ’تملہگا ویٹری کزگم‘ (TVK) نے ریاستی انتخابات میں تمام تجزیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے کلین سویپ کے قریب ترین کامیابی حاصل کر لی ہے۔

وجے کی اس لہر نے تمل ناڈو کی روایتی جماعتوں ڈی ایم کے (DMK) اور اے آئی اے ڈی ایم کے (AIADMK) کے پیروں تلے سے زمین نکال دی ہے۔ تمل ناڈو اسمبلی کی 234 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے 118 نشستوں کی ضرورت ہے، جبکہ وجے کی پارٹی 108 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگرچہ وہ اکثریت سے محض 10 نشستیں دور ہیں، لیکن ان کی یہ جیت کسی معجزے سے کم نہیں۔

سیاسی پنڈت وجے کے عروج کا موازنہ لیجنڈری اداکار اور سابق وزیر اعلیٰ ایم جی رام چندرن (MGR) سے کر رہے ہیں، جنہوں نے 1977 میں اپنی الگ جماعت بنا کر اقتدار حاصل کیا تھا۔ وجے نے بھی فلمی شہرت کو سیاسی طاقت میں بدلنے کے لیے برسوں محنت کی، جس کا آغاز 2009 میں فین کلبز کو سماجی بہبود کے نیٹ ورک میں بدلنے سے ہوا تھا۔

انتخابی سرویز کے مطابق وجے کو سب سے زیادہ حمایت 18 سے 39 سال کے نوجوانوں، خاص طور پر پہلی بار ووٹ دینے والوں اور خواتین کی جانب سے ملی ہے۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ لوگ پرانی جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور وجے ایک “نئی امید” بن کر ابھرے ہیں۔

اب وجے کو ایک مقبول لیڈر کے ساتھ ساتھ ایک ماہر سیاستدان کا روپ بھی دھارنا ہوگا۔ انہیں حکومت بنانے کے لیے چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ ناقدین اگرچہ ان کی پالیسیوں کی گہرائی پر سوال اٹھا رہے ہیں، لیکن تمل ناڈو کی سڑکوں پر جشن کا سماں بتاتا ہے کہ عوام نے تبدیلی کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *