US-Iran Tensions Peak as Trump Issues Stark Warning

Editor News

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر منگل کی ڈیڈ لائن تک معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کو “ایک رات میں ختم” کیا جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ تہران کے پاس امریکی شرائط ماننے کے لیے اب مزید وقت نہیں بچا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اس میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جو ایک مثبت قدم تو ہے لیکن واشنگٹن کی توقعات پر پوری نہیں اترتی۔ ٹرمپ کے بقول: “انہوں نے سات دن مانگے تھے، میں نے دس دیے، لیکن اب اگر معاہدہ نہ ہوا تو تباہی پھیلے گی۔”

امریکی صدر نے فوجی آپشن کو میز پر رکھتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج ایرانی انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر حملوں کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اشتعال انگیز تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ممکنہ طور پر منگل کی رات ہی غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔ جنگی جرائم کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں عالمی قانون کی فکر نہیں، بلکہ ایران کا ایٹمی ہتھیار رکھنا اصل جرم ہے۔

چھ ہفتوں سے جاری اس تنازع نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستان سمیت مختلف ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران ایٹمی عزائم ترک کرے اور تزویراتی آبی گزرگاہ کو فوری طور پر کھولے۔ دوسری جانب ایران عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل بنیادوں پر دشمنی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *