واشنگٹن (اے ایف پی): امریکی حکومت نے روس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے تاکہ سمندر میں موجود روسی خام تیل کو بھارت کو فروخت کرنے کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (OFAC) کی جانب سے جاری کیے گئے خصوصی لائسنس کے تحت بحری جہازوں میں پہلے سے موجود روسی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کو بھارت منتقل کرنے اور فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اجازت صرف اس تیل تک محدود ہے جو 5 مارچ 2026 تک بحری جہازوں پر لدا ہوا تھا، جبکہ اس سے متعلق تمام مالی اور تجارتی لین دین 3 اپریل 2026 تک مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ اس اجازت میں وہ بحری جہاز بھی شامل ہیں جو مختلف پابندیوں کے باعث بلاک کر دیے گئے تھے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مختصر مدتی اور محدود نوعیت کی چھوٹ ہے جس سے روسی حکومت کو کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے تحت صرف پہلے سے سمندر میں موجود تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے عالمی توانائی کی منڈی پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی بڑی تیل کمپنیوں لوکوائل اور روسنیفٹ پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد روسی تیل کے خریداروں کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے تھے۔
اگرچہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے تحت روسی تیل کی خریداری محدود کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں سمندر میں موجود تیل کے ذخیرے کی منتقلی کو عالمی سپلائی چین کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
