اقوامِ متحدہ (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری “غیر قانونی حملوں” کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صورتحال کسی کے بھی کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ تنازع تیزی سے کئی ممالک تک پھیل رہا ہے جو عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت نئی بلندیوں پر پہنچ گئی جب 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس مہم کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر جوابی حملے کیے ہیں۔
واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد تہران کے جوہری اور میزائل خطرات کو روکنا ہے، تاہم ان کارروائیوں میں ایرانی حکومت کا ڈھانچہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ایران سے “بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے” (Unconditional Surrender) کا مطالبہ کر دیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے شہریوں کے بڑھتے ہوئے مصائب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”یہ حملے پورے خطے میں شہریوں کو بے پناہ نقصان پہنچا رہے ہیں اور عالمی معیشت، بالخصوص کمزور طبقات کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ روکی جائے اور سنجیدہ سفارتی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔”
اقوامِ متحدہ کے ہیومینیٹیرین چیف ٹوم فلیچر نے انکشاف کیا کہ اس جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاست دان ضرورت مندوں کی امداد میں کٹوتیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے “ٹیکنالوجی اور بے رحمانہ قتل و غارت گری کا مہلک اتحاد” قرار دیا۔
ٹوم فلیچر نے خبردار کیا کہ یہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی مارکیٹوں، سپلائی چین اور خوراک کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب ممالک اور کمزور عوام پر پڑے گا۔
