U.S. Airlines Warn of Delays as TSA Staff Work Without Pay During Shutdown

Editor News

واشنگٹن ڈی سی: امریکہ کی بڑی ایئر لائن کمپنیوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کو فوری طور پر ختم کیا جائے، کیونکہ اس کے باعث ایئرپورٹس پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہیں۔

امریکن ایئر لائنز، ڈیلٹا، ساؤتھ ویسٹ اور جیٹ بلیو سمیت دیگر ایئر لائنز کے سربراہان نے قانون سازوں کو ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مسافروں کو مزید تاخیر اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS)، جو ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) کی نگرانی کرتا ہے، فروری سے فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔ اس مسئلے پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

ڈیموکریٹس نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ کو امیگریشن اصلاحات سے مشروط کر دیا ہے۔ خاص طور پر جنوری میں منیسوٹا میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد وہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے لیے مزید سخت قوانین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاخیر کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو قرار دیتے ہوئے ٹی ایس اے اہلکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کرے گی۔

ایئر لائن کمپنیوں کے سی ای اوز کا کہنا ہے کہ بغیر تنخواہ کام کرنے والے ٹی ایس اے ملازمین کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شٹ ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے اب تک 300 سے زائد ملازمین ملازمت چھوڑ چکے ہیں جبکہ چھٹی لینے والے ملازمین کی تعداد بھی دوگنی ہو گئی ہے۔

کئی ایئرپورٹس پر اس کے اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ آسٹن، ٹیکساس کے ایئرپورٹ پر مسافروں کو 100 منٹ سے زائد انتظار کرنا پڑا جبکہ اٹلانٹا اور فورٹ لاڈرڈیل کے ہوائی اڈوں پر بھی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔

ڈینور، سیاٹل اور لاس ویگاس کے ایئرپورٹس نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تنخواہ کام کرنے والے ملازمین کی مدد کے لیے تحائف یا گفٹ کارڈز عطیہ کریں۔

ایئر لائنز نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تنخواہیں حکومتی شٹ ڈاؤن سے متاثر نہ ہوں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *