Trump Sends High-Level US Delegation to Pakistan for Iran Nuclear Talks

۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں یہ بھی کہا کہ اگر دو ہفتوں کی جنگ بندی کے خاتمے (22 اپریل) تک مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج اور بمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنے اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔ نیویارک پوسٹ اور بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ “مذاکرات جاری رہنے چاہئیں، اب ایسا لگتا ہے کہ سب فریقین سنجیدہ ہیں۔”

صدر ٹرمپ کے مطابق اس وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ صدر نے واضح کیا کہ وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملنے کو تیار ہیں، تاہم اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران اپنے جوہری ہتھیاروں کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں یہ بھی کہا کہ اگر دو ہفتوں کی جنگ بندی کے خاتمے (22 اپریل) تک مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج اور بمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب، ایران نے تاحال اسلام آباد میں مذاکرات کے اس دور میں شرکت سے معذرت کی ہے۔ ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ سنجیدہ نہیں ہیں اور ایک طرف مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں اور جارحیت جاری ہے۔ ایران نے الزام لگایا کہ امریکہ نے حال ہی میں ان کے ایک بحری جہاز پر حملے کی کوشش کی اور ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی اب بھی جاری ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کل 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا یہ دوسرا دور انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لیکن فریقین کے بیانات اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے تاحال غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *