Trump-Pope Dispute Deepens After Remarks on Iran and War

یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پوپ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی بیان بازی کو "ناقابل قبول" قرار د

Editor News

ویٹیکن سٹی/واشنگٹن: کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو XIV اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایران جنگ اور خارجہ پالیسی کے معاملے پر شدید تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ پوپ لیو نے صدر ٹرمپ کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ امن کے پیغام پر قائم ہیں اور کسی بھی سیاسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔

افریقہ کے 10 روزہ دورے پر روانہ ہوتے ہوئے پوپ لیو نے جہاز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”مجھے ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں ہے۔ میں یہاں انجیل (Gospel) کا پیغام عام کرنے کے لیے ہوں، جو امن کا پیغام ہے۔ ہم سیاستدان نہیں ہیں اور نہ ہی ہم خارجہ پالیسی کو طاقت کے ترازو میں تولتے ہیں۔”

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے بیانات اور میڈیا سے گفتگو میں پوپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو خارجہ پالیسی کے لیے “خطرناک” ہیں اور وہ ایران جیسے ملک کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ چرچ نے لیو کو صرف اس لیے پوپ بنایا کیونکہ وہ امریکی ہیں اور وہ ٹرمپ کا مقابلہ کر سکیں۔

یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پوپ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی بیان بازی کو “ناقابل قبول” قرار دیا۔ دوسری جانب، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جنگی کوششوں کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی، جس پر پوپ نے دو ٹوک جواب دیا کہ “یسوع مسیح امن کے بادشاہ ہیں، جنگ کے نہیں۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *