Traditional Study Methods Outperform AI-Assisted Learning in New Study

محققین کا کہنا ہے کہ جب طالب علم AI سے بنے بنائے جوابات لیتے ہیں، تو ان کا دماغ اس ’ذہنی مشقت‘ سے محروم رہ جاتا ہے جو معلومات کو یاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

Editor News

واشنگٹن: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ جو اپنی پڑھائی کے لیے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز جیسے ChatGPT، Claude اور Gemini پر انحصار کرتے ہیں، ان کی یادداشت مستقل بنیادوں پر کمزور ہو سکتی ہے۔ ’سوشل سائنسز اینڈ ہیومینیٹیز اوپن‘ (Social Sciences & Humanities Open) میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، AI کی مدد سے مختصر مدت کی کارکردگی تو بہتر ہو جاتی ہے، لیکن طویل مدتی سیکھنے کا عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔

120 طلبہ پر کیے گئے ایک تجربے میں انہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو AI استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ دوسرے کو روایتی طریقوں سے پڑھنے کا کہا گیا۔ 45 دن بعد جب ان کا اچانک امتحان لیا گیا تو:

AI استعمال کرنے والے طلبہ نے صرف 57.5 فیصد نمبر حاصل کیے۔
روایتی طریقے سے پڑھنے والے طلبہ نے 68.5 فیصد نمبر حاصل کیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ جب طالب علم AI سے بنے بنائے جوابات لیتے ہیں، تو ان کا دماغ اس ’ذہنی مشقت‘ سے محروم رہ جاتا ہے جو معلومات کو یاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

اس عمل کو “کگنٹیو آف لوڈنگ” (Cognitive Offloading) کہا جاتا ہے، جس میں انسان سوچنے سمجھنے کا کام خود کرنے کے بجائے مشینوں پر چھوڑ دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، AI مستقل طور پر تخلیقی صلاحیتوں کو ختم تو نہیں کرتا، لیکن یہ ایک ایسی ’ذہنی بیساکھی‘ بن جاتا ہے جو انسان کو خود سیکھنے اور یاد رکھنے کے قابل نہیں رہنے دیتی

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *