نیو جرسی (ویب ڈیسک): نیو جرسی کی گورنر مائیکی شیرل نے ریاست کے نئے مالی سال کے لیے اپنا پہلا بجٹ منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس میں عوام کے لیے زندگی کو زیادہ قابلِ برداشت بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ “افورڈ ایبلٹی” کے تصور کے تحت تیار کیے گئے اس بجٹ میں تعلیم، ذہنی صحت اور یوٹیلیٹی بلوں میں ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔
گورنر شیرل نے پہلی مرتبہ ریاست کے K-12 اسکولوں (کنڈرگارٹن سے بارہویں جماعت تک) کے لیے 12.4 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جو نیو جرسی کی تاریخ میں تعلیم کے شعبے کے لیے سب سے بڑی مالیاتی تجویز قرار دی جا رہی ہے۔ اس فنڈ کا ایک بڑا حصہ طلبہ کی خواندگی میں اضافے کے لیے ٹیوٹرنگ پروگرامز پر خرچ کیا جائے گا۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر گورنر نے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے بجلی کے نرخوں کو منجمد رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاستی فنڈز استعمال کیے جائیں گے تاکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ ساتھ ہی کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یوٹیلیٹی سپورٹ پروگرامز کو مزید وسعت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
بجٹ میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں اسکولوں میں کونسلنگ کی سہولیات کو بہتر بنانے اور طلبہ کی ذہنی صحت کے فروغ کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن تحفظ اور سوشل میڈیا کے اثرات پر تحقیق کے لیے ایک خصوصی ریسرچ سینٹر کے قیام کی غرض سے 5 لاکھ ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
گورنر مائیکی شیرل کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے شہریوں سے مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا تھا، اور یہ بجٹ اسی عزم کی عملی شکل کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔
