Pakistan Proposes Second Round of US-Iran Talks After ‘Historic’ First Phase

۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایک سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہے گا

Editor News

اسلام آباد(ویب ڈیسک): پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کی باضابطہ تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے کامیاب اختتام کے بعد سامنے آئی ہے، جسے عالمی سطح پر “تاریخی” قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق واشنگٹن اور تہران دونوں کو دوبارہ میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایک سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ “ہماری کوشش ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو اور موجودہ جنگ بندی کی مدت میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ بات چیت کے لیے مزید وقت مل سکے۔”

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات میں “کچھ پیش رفت” کا اعتراف کیا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایرانی فریق معاہدے کے حصول کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔

تاہم، جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ واشنگٹن کا بنیادی مطالبہ ‘ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری’ ہے۔ انہوں نے اسے امریکہ کی جانب سے “آخری اور بہترین پیشکش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ بلند ترین سطح کا براہِ راست رابطہ ہے، جس کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا ہے۔ اگرچہ جوہری پروگرام پر اختلافات اب بھی موجود ہیں، لیکن مذاکرات کے تسلسل کو ایک مثبت علامت سمجھا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *