نیویارک(ویب ڈیسک): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور اصولی عالمی ردعمل پر زور دیا ہے۔
اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ اعلیٰ سطح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا جواب بھی اتنا ہی مضبوط اور دور اندیش ہونا چاہیے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس لعنت کے موثر خاتمے کے لیےاہم نکات پیش کیے:ان نکات میں بڑھتے ہوئے پیمانے اور پیچیدگی کے مطابق ایک اصولی اور مستقبل پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
انسانی حقوق کے قوانین اور قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، بشمول مذہبی منافرت، امتیازی سلوک اور تشدد پر اکسانے کو جرم قرار دینا۔
نفرت انگیز جرائم کی روک تھام اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے قومی قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے۔
اقوام متحدہ، رکن ممالک اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے تاکہ آن لائن اسپیس کو ریگولیٹ اور نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) کا سدِباب کیا جا سکے۔
تنوع کے احترام، ثقافتی تفہیم اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی نصاب میں بہتری لائی جائے۔
اعتماد سازی اور مشترکہ انسانی اقدار کو تقویت دینے کے لیے بین الثقافتی اور بین المذاہب مکالمے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
محض بیانات سے آگے بڑھ کر “گلوبل ایکشن پلان” کی صورت میں عملی اقدامات، بہترین تجربات کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔
سفیرِ پاکستان نے زور دیا کہ وقت آگیا ہے کہ دنیا اسلامو فوبیا کو ایک عالمی چیلنج تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف متحد ہو کر ٹھوس نتائج حاصل کرے۔ ان کا یہ خطاب پاکستان کے اس عزم کا اعادہ ہے جو وہ عالمی فورمز پر توہینِ مذہب اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کے خلاف مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔
