نیویارک: میئر زوہران ممدانی نے ‘میئرز فنڈ ٹو ایڈوانس نیویارک سٹی’ (Mayor’s Fund to Advance New York City) کے لیے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ ایک غیر منافع بخش تنظیم (501(c)(3)) ہے جو شہر کے 50 اداروں، مخیر تنظیموں اور کمیونٹی لیڈروں کے ساتھ مل کر نیویارک کے شہریوں کو درپیش ہنگامی مسائل، بالخصوص سستی زندگی (Affordability) کے ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔
اس نئی تشکیل میں کارپوریٹ قیادت کے بجائے محنت کشوں، اساتذہ اور یونین آرگنائزرز کو ترجیح دی گئی ہے۔
میئرز فنڈ بورڈ کے کلیدی ممبران
بورڈ کی سربراہی میئر کی چیف آف اسٹاف ایل بسگارڈ چرچ کریں گی، جبکہ کیٹ سمتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنی خدمات جاری رکھیں گی۔
چیف آف اسٹاف، سماجی پالیسی اور قانون سازی کی ماہر ایل بسگارڈ چرچ (چیئر)، ایشیائی تارکین وطن اور کرایہ داروں کے حقوق کی علمبردارجولی چن، برونکس میں پبلک اسکول ٹیچر اور لٹریسی کوآرڈینیٹر کرسٹینا کور، مخیر شخصیت اور قانونی وکیل، تعلیمی مساوات کی ماہرشان وی موری ہیڈ،نیویارک فاؤنڈیشن کے صدر نسلی اور معاشی انصاف کے کارکن رکی مننزالا، شہری شمولیت اور حکومتی پروگراموں کے ماہرجیویر ایچ والڈیز اور
یونین آرگنائزر (UAW) اور سابق لانگ شور ورکر ٹونی پرلسٹین شامل ہیں۔
ممدانی انتظامیہ کے مطابق، یہ فنڈ سرکاری سرمایہ کاری کا متبادل نہیں بلکہ اس کا معاون ہوگا تاکہ میئر کے بڑے منصوبوں (جیسے میونسپل گروسری اسٹورز اور مفت چائلڈ کیئر) کو مہمیز دی جا سکے۔
بورڈ میں کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے بجائے برونکس کے اساتذہ اور یونین لیڈروں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ورکنگ کلاس کی آواز براہِ راست پالیسی سازی تک پہنچے۔
فنڈ کا بنیادی مقصد نیویارک میں بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔
چیف آف اسٹاف ایل بسگارڈ چرچ کے مطابق، یہ نیا دور مخیر سرگرمیوں کو “صرف پیسے” کے بجائے “محنت کشوں کے لیے نتائج” سے جوڑے گا۔
