New York Mayor Zohran Mamdani Launches Office to Combat Deed Theft

گزشتہ دہائی کے دوران نیویارک سٹی میں ڈیڈ تھیفت کی ہزاروں شکایات درج کی گئیں، جن میں سب سے زیادہ تناسب بروکلین اور کوئینز میں دیکھا گیا۔

Editor News

نیویارک: میئر زہران ممدانی نے ایک تاریخی اقدام کرتے ہوئے نیویارک سٹی میں “میئر آفس آف ڈیڈ تھیفت پریوینشن” کے قیام کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔ یہ دفتر خاص طور پر ان سفید پوش مجرموں کے خلاف کام کرے گا جو جعلی دستاویزات کے ذریعے شہریوں، خاص طور پر محنت کش اور سیاہ فام خاندانوں کے گھروں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

یہ دفتر محکمہ خزانہ (Department of Finance) کے ماتحت کام کرے گا اور اس کے اہم فرائض میں مشکوک پراپرٹی فائلنگ کی نشاندہی کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا، اور متاثرہ شہریوں کو قانونی امداد فراہم کرنا شامل ہے۔

میئر ممدانی نے اس موقع پر کہا کہ “گھر کی چوری دراصل ایک خاندان کے مستقبل کی چوری ہے، اور ہم اپنی کمیونٹیز کا استحصال مزید برداشت نہیں کریں گے۔”

نئے ڈائریکٹر پیٹر وائٹ ایک تجربہ کار وکیل ہیں جو برسوں سے بروکلین میں ہوم اونرز کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سینٹ جانز یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ فورڈہم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ شہر بھر میں ڈیڈ تھیفت کو روکنے کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی کی قیادت کریں گے۔

ڈیڈ تھیفت: اعداد و شمار اور اثرات (Statistics & Impact)
نیویارک میں ڈیڈ تھیفت ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

گزشتہ دہائی کے دوران نیویارک سٹی میں ڈیڈ تھیفت کی ہزاروں شکایات درج کی گئیں، جن میں سب سے زیادہ تناسب بروکلین اور کوئینز میں دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، ڈیڈ تھیفت کا سب سے زیادہ نشانہ سیاہ فام (Black) ہوم اونرز اور ان کے محلوں کو بنایا گیا ہے۔ یہ عمل نسل در نسل منتقل ہونے والی دولت (Generational Wealth) کو ختم کرنے اور نسلی دولت کے فرق (Racial Wealth Gap) کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے، خاص طور پر سیاہ فام خواتین کی سربراہی میں چلنے والے گھرانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، اور اب یہ گروہ ایک بار پھر ان فراڈ اسکیموں کا بنیادی ہدف ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *