نیویارک سٹی: نیویارک کے میئر زوہراں مامدانی نے شہر میں معاشی اور نسلی ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع “ریشیل ایکویٹی پلان” (نسلی مساوات کا منصوبہ) پیش کر دیا ہے۔ میئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی انتظامیہ نیویارک کو ایک ایسا شہر بنائے گی جہاں ہر شہری کو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی نسل یا پس منظر سے ہو، ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔
میئر مامدانی نے افیا اٹامنسہ (Afua Atta-Mensah) کو میئر آفس آف ایکویٹی اینڈ ریشیل جسٹس کی نئی کمشنر اور چیف ایکویٹی آفیسر مقرر کیا ہے۔
کمشنر اٹامنسہ اپنی تعیناتی کے پہلے 100 دنوں کے اندر شہر کے لیے ابتدائی “ریشیل ایکویٹی پلان” تیار کر کے شائع کریں گی۔
اس منصوبے کو حتمی شکل دینے سے پہلے نیویارک کے شہریوں سے 30 دن تک رائے لی جائے گی تاکہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔
میئر نے واضح کیا کہ نسلی انصاف کے بغیر معاشی انصاف ممکن نہیں، اور حکومت بڑے اداروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والے محنت کشوں کو ان کا حق دلانے کے لیے کوشاں ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر افیا اٹامنسہ نے کہا:”میں اس ذمہ داری پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ ہمارا مقصد صرف پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ نیویارک کے ان شہریوں کو بااختیار بنانا ہے جنہیں اقتدار کے ایوانوں میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم شہر کے ہر محکمے میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔”
میئر مامدانی کی اس پیشرفت کو نیویارک کی تاریخ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد دہائیوں سے جاری عدم مساوات کو ختم کرنا ہے۔
