Meta Monitors Mouse, Keystrokes, and Screens in New AI Training Program

قانونی ماہرین نے اس اقدام کو ملازمین کی پرائیسی پر حملہ قرار دیا ہے۔

Editor News

نیویارک(ویب ڈیسک): سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ‘میٹا’ نے اپنے امریکی ملازمین کے کمپیوٹرز پر ایک نیا ٹریکنگ سافٹ ویئر نصب کرنا شروع کر دیا ہے۔

یہ سافٹ ویئر ملازمین کے ماؤس کی حرکت، کلکس، کی بورڈ کے استعمال (Keystrokes) اور اسکرین کے مواد کی نگرانی کرے گا تاکہ کمپنی کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز کو تربیت دی جا سکے۔

میٹا کے اندرونی مراسلوں کے مطابق، اس پروگرام کو ‘ماڈل کیپیبلٹی انیشیٹو’ (MCI) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد اے آئی ایجنٹس کو یہ سکھانا ہے کہ انسان کمپیوٹر کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں، جیسے ڈراپ ڈاؤن مینیو کا استعمال یا کی بورڈ شارٹ کٹس لگانا۔

میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوس ورتھ کا کہنا ہے کہ کمپنی ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کام بنیادی طور پر اے آئی ایجنٹس کریں گے اور انسانوں کا کردار صرف ان کی نگرانی کرنا ہوگا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میٹا 20 مئی سے اپنی عالمی افرادی قوت میں 10 فیصد کمی (برطرفیوں) کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمین کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کر کے ایسے ماڈلز بنانا جو ان کی جگہ لے سکیں، وائٹ کالر ملازمتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

قانونی ماہرین نے اس اقدام کو ملازمین کی پرائیسی پر حملہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ میں وفاقی سطح پر ملازمین کی نگرانی کی کوئی سخت حد مقرر نہیں ہے.

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں ‘جی ڈی پی آر’ (GDPR) جیسے سخت قوانین کے تحت اس طرح کی نگرانی غیر قانونی ہو سکتی ہے۔ میٹا کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیٹا ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہیں ہوگا بلکہ صرف اے آئی کی بہتری کے لیے ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *