کیلیفورنیا (ویب ڈیسک): فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی پیرنٹ کمپنی ‘میٹا’ (Meta) نے مکمل طور پر اشتہارات کی آمدنی پر انحصار ختم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی تینوں مقبول ترین ایپلی کیشنز کے لیے پیڈ سبسکریپشن (Paid Subscription) پلانز لانچ کر دیے ہیں۔
میٹا کی ہیڈ آف پروڈکٹ ‘ناؤمی گلائٹ’ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے “انسٹاگرام پلس” (Instagram Plus)، “فیس بک پلس” (Facebook Plus) اور “واٹس ایپ پلس” (WhatsApp Plus) کے نام سے آپشنل پریمیئم ٹائرز (Premium Tiers) متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیڈ سروسز پہلے سے موجود مفت ایپلی کیشنز کے ساتھ ساتھ کام کریں گی۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے مطابق، انسٹاگرام پلس اور فیس بک پلس کی ماہانہ فیس 3.99 ڈالرز (تقریباً 1100 پاکستانی روپے) مقرر کی گئی ہے، جبکہ واٹس ایپ پلس کے لیے صارفین کو ماہانہ 2.99 ڈالرز (تقریباً 830 پاکستانی روپے) ادا کرنا ہوں گے۔
میٹا نے ان پلانز کو کم لاگت والے اپ گریڈ کے طور پر پیش کیا ہے، جن کا بنیادی ہدف سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کرنے والے پاور یوژرز، کانٹینٹ کریٹرز اور چھوٹے کاروباری ادارے ہیں۔
میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ سبسکریپشن پلانز دنیا بھر میں مرحلہ وار رول آؤٹ کیے جا رہے ہیں، اور جیسے ہی یہ صارفین کے خطے میں دستیاب ہوں گے، وہ براہِ راست ایپ کے ذریعے سائن اپ کر سکیں گے۔ کمپنی نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے عام ایڈ سپورٹڈ (اشتہارات والے) ورژن ہمیشہ کی طرح بالکل مفت دستیاب رہیں گے اور یہ نئے پلانز صرف ان لوگوں کے لیے اضافی ٹول کے طور پر ہیں جو زیادہ فیچرز اور کنٹرول چاہتے ہیں
