Malaysia Orders Social Media Platforms to Verify Users’ Ages or Face Heavy Fines

اگر کوئی صارف 16 سال سے کم عمر پایا گیا تو اسے اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

Editor News

کولالمپور(ویب ڈیسک): ملائیشیا کی حکومت نے بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور نقصان دہ آن لائن مواد سے بچانے کے لیے ایک تاریخی اور سخت اقدام اٹھایا ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نئے قوانین کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق (Age Verification) کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (MCMC) کے مطابق، اب سوشل میڈیا کمپنیوں کو نئے اکاؤنٹس بنانے والے صارفین کی عمر کی تصدیق سرکاری دستاویزات اور ریکارڈز کے ذریعے کرنا ہوگی۔ اگر کوئی صارف 16 سال سے کم عمر پایا گیا تو اسے اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ نئے ضوابط پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اگر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم عمر کی تصدیق کا نظام لاگو کرنے میں ناکام رہا تو اسے 10 ملین رنگٹ (ملائیشین کرنسی) یعنی تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر تک کا بھاری جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف نئے اکاؤنٹس تک محدود نہیں ہے بلکہ پہلے سے موجود بچوں کے اکاؤنٹس کی اسکریننگ اور تصدیق کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو تمام موجودہ اکاؤنٹس کی مکمل تصدیق کے لیے 6 ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

ملائیشین حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہیں بلکہ ان کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانا ہے، جہاں والدین، سرپرست اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مل کر نابالغ بچوں کا تحفظ کر سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *