اسلام آباد/راولپنڈی: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے پیشِ نظر جڑواں شہروں، اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ سروسز کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے شہر بھر میں ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح کا حکم نامہ راولپنڈی میں بھی جاری کیا گیا ہے جہاں نجی، عوامی اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حمل فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ یہ اقدامات ان اطلاعات کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسلام آباد اگلے ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کر سکتا ہے، حالانکہ تاحال پاکستان، امریکہ یا ایران کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
سٹی پولیس آفیسر (CPO) سید خالد محمود ہمدانی کی ہدایت پر راولپنڈی میں 10,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر 600 سے زائد چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ ایلیٹ کمانڈوز، سنائپرز، ڈولفن فورس اور ریپڈ ریسپانس یونٹس مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ سیف سٹی سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے حساس تنصیبات کی 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تین دن بعد اسلام آباد میں ہوا تھا۔ اس تاریخی ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے وفود کی قیادت کی تھی۔ ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور عالمی پابندیوں جیسے پیچیدہ مسائل کا حل نکالنا ہے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع کا آغاز 28 فروری کو ایران پر اچانک حملے کے بعد ہوا تھا۔
