Ishaq Dar Calls Overseas Pakistanis the Nation’s Greatest Asset at New York Eid Event

نہوں نے یاد دلایا کہ 28 مئی 1998 کو نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ایٹمی طاقت بنا

Editor News

نیویارک (ویب ڈیسک): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آگے بڑھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور پائیدار و تیز رفتار اقتصادی ترقی کی بدولت پاکستان کے “بہترین دن آگے ہیں”۔

نیویارک میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کی جانب سے مائینڈ ہیبرڈ میں منعقدہ عید ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں معروف پاکستانی نژاد امریکی رہنماؤں اور پیشہ ور افراد نے شرکت کی، اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے پختگی، ساکھ اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ “جو قوم پورے اعتماد کے ساتھ اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہی عالمی سطح پر امن قائم کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو بھی معتبر طریقے سے آگے بڑھا سکتی ہے۔” انہوں نے ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کو سنگین معاشی چیلنجز سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کر دیا ہے اور اب تمام تر توجہ برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے ماڈل پر مرکوز ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جا سکیں اور ملک کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بنایا جائے۔

وزیر خارجہ نے مئی کے مہینے کو پاکستان کی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 28 مئی 1998 کو نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مئی 2025 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں ہندوستانی جارحیت کے سامنے آہنی دیوار بن کر ملکی وقار کو لازوال بنا دیا۔

انہوں نے پاک امریکہ تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تارکین وطن (پاکستانی کمیونٹی) کو پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیا اور انہیں وطن عزیز میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی اور سیز فائر کرانے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *