تہران/اسلام آباد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ عالمی برادری نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اس سے عالمی توانائی بحران میں کمی آنے کی توقع ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں واضح کیا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام کمرشل جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط (Coordinated) روٹس کے ذریعے گزر سکیں گے۔ یہ روٹس ایران کی ‘پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن’ نے پہلے ہی جاری کر دیے ہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر ہونے والے فضائی حملے، جس میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا، کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ اس بندش سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا اور عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
اس کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان نے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی کوششوں سے فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر راضی ہوئے، جس کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران میں موجود ہیں تاکہ ایک پائیدار اور حتمی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
عالمی مبصرین اب 22 اپریل کی تاریخ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ آیا اس سے قبل کوئی مستقل امن معاہدہ طے پاتا ہے یا خطے کی صورتحال ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہو جائے گی۔
