نیویارک: نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان لانگ آئی لینڈ ریل روڈ (LIRR) کی جاری ہڑتال پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ گورنر ہوچل نے 30 سال بعد ہونے والی اس تاریخی ہڑتال کی تمام تر ذمہ داری ٹرمپ انتظامیہ پر عائد کر دی ہے۔
اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کیتھی ہوچل نے کہا کہ “یہ ہڑتال اس وقت تک ممکن نہیں تھی جب تک ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ موسمِ خزاں میں لیبر یونینز کو ثالثی کے عمل سے الگ کرنے کا انتہائی غیر معمولی قدم نہ اٹھایا ہوتا۔ بدقسمتی سے، ہمارے مسافروں کو آج اس فیصلے کا خمیازہ ہڑتال کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک مزدور دوست ریاست ہے لیکن ایم ٹی اے (MTA) ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کر سکتا جس سے کرایوں میں 8 فیصد تک اضافہ ہو اور ٹیکسز بڑھنے کا خطرہ ہو۔
گورنر کے الزامات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “نیویارک کی ناکام گورنر کیتھی ہوچل نے لانگ آئی لینڈ ریل روڈ ہڑتال کا الزام مجھ پر لگا دیا ہے، جبکہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے—میں نے تو اس کے بارے میں پہلی بار آج صبح ہی سنا ہے۔”
گزشتہ روز پانچ مختلف لیبر یونینز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ایل آئی آر آر (LIRR) ملازمین تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ہڑتال پر چلے گئے۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (MTA) نے 3 فیصد اضافے کی پیشکش کی ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس سے زیادہ اضافہ ریاستی بجٹ اور مسافروں کے کرایوں پر بوجھ بنے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہڑتال میں شامل دو بڑی یونینز (IAM اور TCU) نے اتوار کو جاری ایک بیان میں گورنر کیتھی ہوچل کو مشورہ دیا ہے کہ اس معاملے کو “سیاسی رنگ” نہ دیا جائے۔
