نیویارک(ویب ڈیسک): آج کل کے نوجوان ملازمین کے لیے ‘9 سے 5’ کی روایتی نوکری ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔ نیویارک سٹی میں کام کرنے والے Gen Z (موجودہ دور کے نوجوان) اب اپنے کام کے دوران تھکن مٹانے، ذہنی سکون حاصل کرنے یا مختصر نیند (Nap) کے لیے دفاتر کے بجائے فلم تھیٹرز، اسٹورز کے فٹنگ رومز اور مخصوص “Nap Pods” کا رخ کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ‘بین سینڈرسن’ نامی صارف کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ دوپہر کے وقت مڈ ٹاؤن کے ایک سینما گھر میں 15 ڈالر کا ٹکٹ لے کر آرام دہ کرسی پر سو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ “یہ نیویارک میں قیلولہ کرنے کی بہترین جگہ ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بروکلین یا نیوجرسی سے آتے ہیں اور بریک کے دوران گھر نہیں جا سکتے۔”
نیپ یارک (Nap York): تھکے ہوئے ملازمین کے لیے جدید نخلستان
نیویارک میں Nap York نامی ایک ایسی جگہ بھی مقبول ہو رہی ہے جہاں نجی کیپسول یا پوڈز کرایے پر دستیاب ہیں۔
ان ساؤنڈ پروف پوڈز میں گدے، لائٹس اور پنکھے موجود ہیں جہاں ملازمین 27 ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے آرام کر سکتے ہیں۔
یہ پوڈز سینٹرل پارک اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسے مصروف علاقوں میں واقع ہیں۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دراصل کام کے بوجھ اور مسلسل ڈیڈ لائنز کے خلاف انسانی اعصابی نظام کا ردِعمل ہے۔ ڈاکٹر حفیظ کے مطابق:
کام سے تھوڑی دیر کے لیے غائب ہونا دراصل اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا ہے۔
صرف 10 سے 20 منٹ کی ‘پاور نیپ’ دماغ کو دوبارہ متحرک کرنے اور بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔
پرانی نسلوں کے برعکس، آج کا نوجوان ذہنی صحت پر بات کرنے کو نارمل سمجھتا ہے اور ‘برن آؤٹ’ (Burnout) سے بچنے کے لیے اپنی حدود (Boundaries) طے کر رہا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ آرام کو ‘انعام’ کے بجائے ‘ضرورت’ سمجھا جائے، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ محض نیند سے کام کا زیادہ بوجھ یا کمپنی کا برا کلچر تبدیل نہیں ہوگا، اس کے لیے طرزِ زندگی پر نظرثانی ضروری ہے۔
