واشنگٹن: حالیہ برسوں میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین پر سپائی ویئر (جاسوسی سافٹ ویئرز) کے حملے اب کوئی معمولی بات نہیں رہے بلکہ یہ ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔
حال ہی میں واٹس ایپ اور ایپل نے یورپ سمیت دنیا بھر کے درجنوں صارفین اور صحافیوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں اسرائیلی کمپنی ‘پیراگون سلوشنز’ کے ‘گرافائٹ’ نامی جدید سپائی ویئر اور “زیرو کلک” (Zero-Click) حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جہاں صارف کو کسی لنک پر کلک کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور فون ہیک ہو جاتا ہے۔
جب یہ جاسوسی سافٹ ویئرز کسی کے اسمارٹ فون میں داخل ہوتے ہیں، تو ہیکرز کو فون کالز ریکارڈ کرنے، چیٹس چرانے، تصاویر تک رسائی حاصل کرنے، اور یہاں تک کہ فون کا کیمرہ اور مائیکروفون آن کر کے آس پاس کی گفتگو سننے کی مکمل آزادی مل جاتی ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایپل، گوگل اور میٹا (واٹس ایپ) نے چند بہترین اور مفت حفاظتی فیچرز متعارف کروائے ہیں، جنہیں آن کر کے آپ اپنے ڈیٹا کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
ٹیک کرنچ (TechCrunch) اور سیکیورٹی ماہر رونا سینڈوک کے مطابق”یہ فیچرز بالکل مفت اور آن کرنے میں انتہائی آسان ہیں، اور جدید سپائی ویئر کے خلاف ہماری بہترین دفاعی لائن ہیں۔ اگر یہ آپ کے کسی کام میں رکاوٹ بنیں، تو آپ انہیں کسی بھی وقت دوبارہ بند کر سکتے ہیں۔”
ذیل میں ان تینوں بڑے پلیٹ فارمز کے حفاظتی فیچرز اور انہیں آن کرنے کا طریقہ پیش کیا جا رہا ہے:
1۔ ایپل کا لاک ڈاؤن موڈ (Apple’s Lockdown Mode)
یہ فیچر آئی فون اور دیگر ایپل ڈیوائسز کے لیے دستیاب ہے۔ اسے آن کرنے سے فون عام طریقے سے کام نہیں کرتا بلکہ سیکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیتا ہے۔ ‘سٹیزن لیب’ کے مطابق اس موڈ نے ماضی میں مشہور سپائی ویئر ‘پیگاسس’ (Pegasus) کا حملہ بھی روکا تھا۔
تبدیلیاں: آئی میسج (iMessage) پر انجان لنکس اور زیادہ تر اٹیچ منٹس بلاک ہو جاتی ہیں۔ سفاری براؤزر میں مخصوص ویب ٹیکنالوجیز اور فونٹس بند ہو جاتے ہیں۔ انجان لوگوں کی فیس ٹائم کالز بلاک ہو جاتی ہیں۔ پبلک وائی فائی سے فون خود بخود کنیکٹ نہیں ہوتا اور 2G یا 3G نیٹ ورکس بلاک ہو جاتے ہیں۔ کمپیوٹر سے فون کنیکٹ کرنے کے لیے پاس کوڈ ڈالنا لازمی ہوتا ہے۔
کیسے آن کریں؟ اپنے آئی فون کی Settings میں جائیں، پھر Privacy & Security پر کلک کریں، نیچے سکرول کر کے Lockdown Mode پر جائیں اور اسے فعال کر دیں۔ فون ایک بار ری اسٹارٹ ہوگا۔
2۔ گوگل کا ایڈوانسڈ پروٹیکشن پروگرام اور اینڈرائیڈ موڈ
گوگل نے اپنے صارفین کے اکاؤنٹس اور اینڈرائیڈ فونز کو ہیکرز سے بچانے کے لیے دوہرے حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔
گوگل اکاؤنٹ پروٹیکشن: اس کے تحت جی میل پر مشکوک ای میلز کی گہری اسکیننگ (Deep Scans) ہوتی ہے اور تھرڈ پارٹی ایپس کی اکاؤنٹ تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ اسے آن کرنے کے لیے گوگل کے آفیشل ایڈوانسڈ پروٹیکشن پیج پر جا کر ‘Get Started’ پر کلک کریں اور پاس ورڈ کے ساتھ فزیکل سیکیورٹی کی یا سافٹ ویئر پاس کی (Passkey) شامل کریں۔
اینڈرائیڈ ایڈوانسڈ پروٹیکشن موڈ: یہ اینڈرائیڈ فونز کو میلویئر سے بچاتا ہے۔ اس کے تحت انجان ذرائع سے ایپس انسٹال نہیں ہو سکتیں، کروم براؤزر پر HTTPS انکرپشن لازمی ہو جاتی ہے، اور 2G نیٹ ورک بلاک ہو جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اگر فون چوری ہو جائے یا 72 گھنٹے تک لاک رہے، تو یہ خود بخود ری بوٹ ہو جاتا ہے تاکہ ڈیٹا نکالنے والے قانون نافذ کرنے والے ٹولز (جیسے سیلیبرائٹ) بھی اس کا ڈیٹا چوری نہ کر سکیں۔
کیسے آن کریں؟ اینڈرائیڈ کی Settings میں جائیں، پھر Security and Privacy پر کلک کریں، اور Other Settings کے اندر Advanced Protection پر جا کر Device Protection کو آن کر دیں۔
3۔ واٹس ایپ کی سخت اکاؤنٹ ترتیبات (Strict Account Settings)
دنیا بھر میں 3 ارب سے زائد صارفین کی حامل ایپ واٹس ایپ پر ہیکنگ مہمات کے جواب میں کمپنی نے حال ہی میں ‘اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز’ متعارف کروائی ہیں جو اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پر کام کرتی ہیں۔
تبدیلیاں: ٹو-اسٹیپ ویریفکیشن لازمی ہو جاتی ہے۔ انجان نمبروں سے آنے والی میڈیا فائلز (تصاویر اور ویڈیوز) بلاک اور کالز سائلنٹ ہو جاتی ہیں۔ لنکس کا پری ویو بند ہو جاتا ہے، کالز کے دوران آپ کا آئی پی (IP) ایڈریس چھپ جاتا ہے اور کوئی بھی انجان شخص آپ کو کسی گروپ میں ایڈ نہیں کر سکتا۔
کیسے آن کریں؟ اپنے واٹس ایپ کی Settings میں جائیں، پھر Privacy پر کلک کریں، سب سے نیچے Advanced کے آپشن میں جا کر اسے آن کر دیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوئی بھی سیکیورٹی 100 فیصد مکمل نہیں ہوتی، لیکن ان فیچرز کو استعمال کر کے آپ ہیکرز کا کام انتہائی مشکل بنا سکتے ہیں اور اپنے قیمتی ڈیٹا کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روک سکتے ہیں۔
