پاکستان اور یواےای کےدرمیان’پری امیگریشن کلیئرنس معاہدے پر اتفاق

اس نظام کے تحت مسافروں کی امیگریشن کا تمام عمل روانگی سے قبل پاکستان میں ہی مکمل کر لیا جائے گا۔

Editor News

اسلام آباد(ویب ڈیسک): پاکستان اور متحدہ عرب امارات (UAE) نے منگل کے روز ایک باضابطہ معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت پاکستانی شہریوں کو امارات پہنچنے پر طویل امیگریشن لائنوں سے نجات مل جائے گی۔ اس نظام کو ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ اماراتی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی، احمد بن لاحج الفلاسی کر رہے تھے۔

اس نظام کے تحت مسافروں کی امیگریشن کا تمام عمل روانگی سے قبل پاکستان میں ہی مکمل کر لیا جائے گا۔

محسن نقوی نے بتایا کہ امارات پہنچنے پر پاکستانی شہری کسی بین الاقوامی مسافر کے بجائے ایک ’ڈومیسٹک مسافر‘ کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔

اس منصوبے کا آغاز سب سے پہلے کراچی سے بطور پائلٹ پراجیکٹ کیا جائے گا، جسے بعد ازاں دیگر شہروں تک وسعت دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال سے پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

نومبر 2025 میں وزارتِ داخلہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ یو اے ای نے پاکستانیوں کے لیے ویزوں کا اجرا تقریباً بند کر رکھا ہے۔

اماراتی حکام کی جانب سے وزٹ ویزہ پر جا کر بھیک مانگنے اور قوانین کی خلاف ورزی جیسے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم، حالیہ ملاقاتوں میں یو اے ای نے ویزہ پالیسی میں نرمی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ اس نئے نظام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ مسافروں کے مجموعی تجربے میں بھی بہتری آئے گی۔ یو اے ای کے وفد نے بھی اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے ’سودمند‘ قرار دیا ہے۔

ملاقات میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *