لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

آسٹریلیا کا بین الاقوامی طلبہ کیلئےبڑاجھٹکا: پارٹنر اوربچوں کوساتھ لانےپرسخت پابندیاں عائد

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

کینبرا: آسٹریلیا کی حکومت نے ملک میں تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے بین الاقوامی طلبہ پر نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جمعرات کے روز اعلان کردہ ان اصلاحات کے تحت اکثر غیر ملکی طلبہ کو اب اپنے ساتھ شریکِ حیات (Spsouse) یا بچوں کو ڈیپینڈنٹ ویزے (Dependant Visa) پر لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک (Tony Burke) نے کینبرا کے نیشنل پریس کلب میں ان نئے اقدامات کا اعلان کیا۔ ان اصلاحات کا مقصد آسٹریلیا کی معیشت اور ہاؤسنگ بحران کو کنٹرول کرنا ہے، تاہم اس کا اثر آسٹریلیا میں تعلیم کے خواہشمند ہزاروں عالمی طلبہ پر پڑے گا

پی ایچ ڈی کرنے والے محققین اپنے خاندان کو ساتھ لانے کے اہل ہوں گے۔

بحر الکاہل (Pacific) اور آسیان (ASEAN) ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

جو طلبہ اور ان کے اہل خانہ پہلے سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں، ان کے ویزوں پر اس قانون کا اثر نہیں پڑے گا

حکومت نے ایک ویزے سے دوسرے ویزے یا کورسز بار بار تبدیل کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے بھی سخت قوانین متعارف کرائے ہیں۔ اب اگر کوئی طالب علم کورس تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے نئے ویزے کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ علاوہ ازیں، اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو صرف اعلیٰ درجے کی ڈگری (مثلاً بیچلر کے بعد ماسٹرز) میں ہی داخلہ لینا ہوگا، وہ مساوی یا نچلی سطح کی ڈگری میں دوبارہ داخلہ نہیں لے سکیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران آسٹریلیا نے 337,427 اسٹوڈنٹ ویزے جاری کیے تھے جن میں 45,991 ویزے طلبہ کے ساتھ آنے والے ان کے اہل خانہ کو جاری کیے گئے تھے۔