تحریر: امجد قائم خانی ،ہیوسٹن
پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں 2010ء میں منظور ہونے والی 18 ویں آئینی ترمیم کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ اس ترمیم نے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہوئے صوبوں کو وہ خودمختاری دی جس کا خواب 1973ء کے آئین میں دیکھا گیا تھا۔ تاہم، اس سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ صوبوں نے وفاق سے اختیارات تو لے لیے، لیکن انہیں ضلعی اور مقامی سطح پر منتقل کرنے سے گریز کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے شہر اور دیہات بنیادی مسائل کے انبار تلے دبے ہوئے ہیں اور اختیار کی اصل روح عوام تک نہیں پہنچ سکی۔
18 ویں ترمیم: صوبوں کو حاصل ہونے والے بے پناہ اختیارات
18 ویں ترمیم نے مرکزیت پسندی کا خاتمہ کر کے “صوبائی خودمختاری” کے نئے دور کا آغاز کیا۔ اس ترمیم کے تحت اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں متوازی فہرست (Concurrent List) کا خاتمہ: آئین سے متوازی فہرست کو ختم کر کے صحت، تعلیم، امن و امان، زراعت، اور لوکل گورنمنٹ جیسے 40 سے زائد شعبے مکمل طور پر صوبوں کے سپرد کر دیے گئے۔ مالیاتی خودمختاری (NFC Award): آرٹیکل 160 میں ترمیم کے ذریعے یہ طے کر دیا گیا کہ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) میں صوبوں کا حصہ گزشتہ ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے صوبوں کو ریکارڈ مالیاتی وسائل حاصل ہوئے۔
قدرتی وسائل پر حق: صوبوں کو ان کی حدود میں پائے جانے والے تیل، گیس اور دیگر معدنیات پر وفاق کے برابر (50 فیصد) مالکانہ حقوق دیے گئے۔
آج صوبائی حکومتیں قانون سازی، بجٹ سازی اور انتظامی فیصلوں میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور آزاد ہیں۔
2۔ طاقتور مقامی حکومتوں کے قیام میں رکاوٹیں
آئین کا آرٹیکل 140-A ہر صوبائی حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایک بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی و مالیاتی اختیارات مقامی نمائندوں کو منتقل کرے۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں خود تو خود مختار ہو گئیں، مگر انہوں نے بلدیاتی اداروں کو مفلوج کر دیا۔ اس کی بڑی رکاوٹیں درج ذیل ہیں:
صوبائی بیوروکریسی کا اثر و رسوخ: ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کا نوآبادیاتی نظام منتخب میئرز اور ناظمین کو اختیارات دینے کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہے۔ بیوروکریسی فنڈز اور انتظامی کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
سیاسی اشرافیہ کا خوف:صوبائی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کو یہ ڈر رہتا ہے کہ اگر شہر کا میئر یا ضلع کا ناظم طاقتور ہو گیا، تو ان کی اپنی سیاسی اہمیت اور ترقیاتی فنڈز پر گرفت ختم ہو جائے گی۔
قوانین میں بار بار تبدیلیاں: ہر نئی آنے والی صوبائی حکومت اپنے سیاسی مفادات کے لیے بلدیاتی قوانین میں ترامیم کر دیتی ہے، جس سے نظام میں تسلسل پیدا نہیں ہو پاتا۔
3۔ این ایف سی (NFC) بمقابلہ پی ایف سی (PFC) ایوارڈ: مالیاتی ناانصافی
وفاق سے صوبوں کو فنڈز کی منتقلی تو این ایف سی ایوارڈ کے تحت باقاعدگی سے ہوتی ہے، جس سے صوبوں کے خزانے بھرے رہتے ہیں۔ لیکن کہانی میں بڑا تضاد اس وقت آتا ہے جب یہ فنڈز صوبوں سے اضلاع کو منتقل ہونے ہوتے ہیں۔ پروونشل فنانس کمیشن (PFC) ایوارڈ کا مقصد یہ ہے کہ صوبے اپنے حاصل کردہ فنڈز کو ایک شفاف فارمولے کے تحت تمام اضلاع میں برابر تقسیم کریں تاکہ پسماندہ علاقوں اور بڑے شہروں کی محرومی ختم ہو۔ حقیقتِ حال: صوبائی حکومتیں پی ایف سی ایوارڈز کے اجلاس بلانے سے کتراتی ہیں۔ فنڈز کی تقسیم کا کوئی مستقل اور قانونی فارمولا نافذ نہیں کیا جاتا۔ سیاسی پسند ناپسند: فنڈز کی منتقلی صوبائی وزرائے اعلیٰ کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ نقد رقم ان حلقوں یا اضلاع کو نوازی جاتی ہے جہاں حکمران جماعت کا سیاسی اثر ہو، جبکہ اپوزیشن کے اضلاع اور ریونیو دینے والے بڑے شہروں کو ان کے جائز مالیاتی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
4۔ ایم کیو ایم کی آرٹیکل 140-A میں مجوزہ آئینی ترمیم ایک اہم موڑ
پاکستان میں بلدیاتی اداروں کو صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم سے نکالنے اور انہیں مستقل آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے پارلیمنٹ میں آئین کے آرٹیکل 140-A میں ایک جامع ترمیمی مسودہ پیش کیا ہے۔ اس ترمیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جس طرح وفاق اور صوبوں کے اختیارات آئین میں واضح طور پر درج ہیں، اسی طرح بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات بھی آئین کا حصہ بنا دیے جائیں۔ *مالیاتی تحفظ اور براہِ راست فنڈز:* اس ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کی طرز پر صوبے کے اندر پی ایف سی (PFC) کی مستقل تشکیل لازمی ہوگی۔ صوبوں کو ملنے والی کل رقم کا ایک مخصوص فیصد حصہ براہِ راست اضلاع اور بلدیاتی اداروں کے کھاتوں میں منتقل کیا جائے گا، جس میں صوبائی حکومتیں ردوبدل نہیں کر سکیں گی۔ *انتخابات کا تسلسل اور معطلی پر پابندی:* ترمیم کے مطابق، بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 90 دنوں کے اندر الیکشن کرانا لازمی ہوگا۔ صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ بلدیاتی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹر لگا کر سالہا سال تک عوام کو نمائندگی سے محروم رکھیں۔
*اختیارات کی آئینی فہرست (Fourth Schedule):* آئین میں وفاق اور صوبوں کی طرح ایک “مقامی امور کی فہرست” شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت تعلیم (پرائمری و سیکنڈری)، صحت (بنیادی مراکز)، واٹر اینڈ سیوریج، ماس ٹرانزٹ، بلڈنگ کنٹرول اور لوکل ٹیکسیشن مستقل طور پر میئر یا ضلعی ناظم کے ماتحت کر دیے جائیں۔
5۔ ایم کیو ایم کی مجوزہ ترمیم کے دور رس فوائد
اگر پارلیمنٹ اس آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کر لیتی ہے، تو یہ پاکستان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں درج ذیل انقلابی تبدیلیاں لائے گی:بلدیاتی اداروں کو مستقل تحفظ: بلدیاتی نظام صوبائی وزرائے اعلیٰ کی سیاسی پسند ناپسند یا انتقامی کارروائیوں سے آزاد ہو جائے گا۔ کوئی بھی صوبائی حکومت قانون بدل کر بلدیاتی اداروں کے پر نہیں کاٹ سکے گی۔ بڑے شہروں کی محرومیوں کا خاتمہ: پاکستان کے بڑے شہر، جو ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتے ہیں، صوبائی حکومتوں کی بے رخی کا شکار رہتے ہیں۔ فنڈز کی براہِ راست منتقلی سے کراچی، حیدرآباد، لاہور اور دیگر شہروں کو اپنے ٹیکسوں کا ایک حصہ اپنے ہی انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کا موقع ملے گا۔ بیوروکریسی کے چنگل سے آزادی: امن و امان، صحت اور صفائی جیسے امور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ہاتھ میں آنے سے نوآبادیاتی بیوروکریٹک نظام (ڈپٹی کمشنر کلچر) کا خاتمہ ہوگا اور افسر شاہی عوام کے سامنے جوابدہ ہوگی۔
6۔ ترقی یافتہ ممالک کی شہری حکومتیں: اختیارات اور افادیت
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کا اصل راز ان کا مضبوط بلدیاتی نظام ہی ہے۔ اگر ہم دنیا کے بڑے شہروں جیسے لندن، نیویارک، ٹوکیو یا پیرس کو دیکھیں تو وہاں کا نظام دیکھ کر دنگ رہ جانا پڑتا ہے ایک ہی چھت تلے تمام اختیارات: ان ممالک میں شہر کا میئر حقیقی معنوں میں شہر کا باس ہوتا ہے۔ پولیس (امن و امان)، ٹریفک، تعلیم، صحت، صفائی، ٹرانسپورٹ، اور واٹر سپلائی جیسے تمام محکمے میئر کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بلدیاتی حکومتیں پراپرٹی ٹیکس، لوکل بزنس ٹیکس اور دیگر ذرائع سے خود فنڈز اکٹھا کرتی ہیں اور انہیں وفاق یا صوبے کی امداد کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
7۔ طاقتور مقامی حکومتوں کے مجموعی فوائد
اگر پاکستان میں بھی لندن اور نیویارک کی طرز پر یا آئین کی اصل روح کے مطابق مقامی حکومتیں قائم کر دی جائیں تو اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے:*مسائل کا فوری حل:* گلی کی پختگی، گٹر کی صفائی، پینے کا صاف پانی اور اسٹریٹ لائٹس جیسے مسائل کے لیے عوام کو صوبائی دارالحکومتوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔
*نئی قیادت کا ابھار:* بلدیاتی ادارے سیاسی نرسری کا کام کرتے ہیں۔ یہیں سے مڈل کلاس اور نوجوان قیادت نکل کر قومی سطح پر پہنچتی ہے، جس سے خاندانی سیاست کا خاتمہ ہوتا ہے۔ *وسائل کا درست استعمال:* مقامی لوگ اپنے علاقے کی ضروریات سے بہتر واقف ہوتے ہیں۔ اس لیے ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہونے کے بجائے صحیح جگہ پر خرچ ہوتے ہیں۔
حاصلِ کلام (Conclusion)
18 ویں ترمیم کا مقصد محض اختیارات کو اسلام آباد سے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ منتقل کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل مقصد اختیار کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا تھا۔ جب تک صوبائی حکومتیں منافقت کا لبادہ اتار کر اضلاع کو پی ایف سی ایوارڈ کے تحت ان کا مالیاتی حصہ اور بلدیاتی نمائندوں کو آئینی و انتظامی اختیارات نہیں دیتیں، تب تک ملک میں گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے پیش کردہ ترمیم جیسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کی بقا اور ترقی مرکزیت میں نہیں، بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں پنہاں ہے۔
