Historic AI Deal? US Government Could Become Shareholder in OpenAI

۔ سیم آلٹمین سمیت دیگر اے آئی سربراہان نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

Editor News

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک تاریخی اور بڑا معاہدہ متوقع ہے، جس کے تحت امریکی حکومت اوپن اے آئی (OpenAI) کمپنی میں حصص (اسٹیک) حاصل کر سکتی ہے۔ ‘سی این بی سی’ نے تصدیق کی ہے کہ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سیم آلٹمین اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے چل رہی ہے۔ سیم آلٹمین نے سب سے پہلے 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی، جس پر حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران مزید پیش رفت ہوئی ہے۔

عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے کا پلان
ممکنہ معاہدے کے تحت، اوپن اے آئی امریکی حکومت کو اپنے کچھ شیئرز عطیہ کر سکتی ہے، جس کا مقصد ایک “پبلک ویلتھ فنڈ” (Public Wealth Fund) قائم کرنا ہے۔ کمپنی کی اپریل کی پالیسی تجویز کے مطابق، یہ فنڈ طویل مدتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور امریکی شہریوں کو ملک میں ہونے والی اے آئی (AI) کی ترقی کے مالی فوائد میں براہ راست شراکت دار بنائے گا، جس کے تحت شہریوں کو براہ راست منافع مل سکتا ہے۔

اس حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ایئر فورس ون’ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی اور کہا، “کچھ ایسے تصورات زیرِ غور ہیں جہاں کمپنی کے حصے امریکی عوام کو دیے جا سکتے ہیں، جس سے امریکی عوام بنیادی طور پر اس ٹیکنالوجی میں شراکت دار بن جائیں گے۔” واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں انٹیل (Intel) اور آئی بی ایم (IBM) جیسی بڑی کمپنیوں میں پہلے ہی سرکاری حصص لے چکی ہے۔

اوپن اے آئی کی مالیت اور آئی پی او (IPO) کی تیاریاں
نجی سرمایہ کاروں کی نظر میں اس وقت اوپن اے آئی (OpenAI) کی مجموعی مالیت 850 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ کمپنی رواں سال ہی اپنا آئی پی او (ابتدائی عوامی پیشکش) لانے کی تیاریاں کر رہی ہے، جبکہ حال ہی میں مارچ کے مہینے میں کمپنی نے ابوظہبی کے خودمختار فنڈ ‘MGX’ کے تعاون سے ریکارڈ فنڈنگ حاصل کی ہے۔

لانچ سے قبل حکومتی جانچ کا نیا قانون
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت اے آئی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے نئے ماڈلز کو مارکیٹ میں لانچ کرنے سے 30 دن پہلے رضاکارانہ طور پر حکومت کو جانچ کے لیے فراہم کریں۔ سیم آلٹمین سمیت دیگر اے آئی سربراہان نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ آلٹمین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بہترین اور محفوظ ترین ماڈلز بنا کر اے آئی کے شعبے میں دنیا کی قیادت کرنی چاہیے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *