NASA Officially Ends MAVEN Mars Mission After Six Months of Lost Contact

اس مشن نے ہمیں یہ جاننے کا موقع دیا کہ ایک وقت میں پانی سے مالامال رہنے والا یہ سرخ سیارہ آخر کس طرح ایک بنجر اور سرد دنیا میں تبدیل ہو گیا۔

Editor News

سان فرانسسکو: امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے مریخ کے ماحول اور اس کے ارتقا کا مطالعہ کرنے والے اپنے مشہور خلائی جہاز ‘میون’ (MAVEN) کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کے چھ ماہ بعد اس تاریخی مشن کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

میون خلائی جہاز دسمبر 2025 میں زمین سے اپنا رابطہ کھو بیٹھا تھا، اور مہینوں کی خاموشی اور مسلسل کوششوں کے بعد ناسا نے اب اسے الوداع کہہ دیا ہے۔’مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایولیوشن’ (Mars Atmosphere and Volatile Evolution) یعنی میون خلائی جہاز کو 2013 میں لانچ کیا گیا تھا اور یہ 2014 میں مریخ کے مدار میں داخل ہوا تھا۔

ابتدائی طور پر اس مشن کی مدت صرف ایک یا دو سال طے کی گئی تھی، لیکن اس پروب (Probe) نے توقعات سے بڑھ کر کام کیا اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک مریخ کے راز اگلتا رہا۔ ناسا کا ماننا ہے کہ رابطہ ختم ہونے کے باوجود یہ خلائی جہاز اب بھی مریخ کے گرد مدار میں موجود ہے۔

مشن سے وابستہ ایسٹرو فزکس کی پروفیسر شینن کری (Shannon Curry) نے اسے “مریخ کا اب تک کا بہترین مشن” قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ میون کی بدولت سائنسدانوں کو ‘ایٹموسفیئرک ایسکیپ’ (Atmospheric Escape) یعنی مریخ کی گیسوں کے خلا میں ضائع ہونے کے عمل کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی۔

اس مشن نے ہمیں یہ جاننے کا موقع دیا کہ ایک وقت میں پانی سے مالامال رہنے والا یہ سرخ سیارہ آخر کس طرح ایک بنجر اور سرد دنیا میں تبدیل ہو گیا۔

ناسا کے ایکسپلوریشن پروگرام کی چیف ٹفنی مورگن نے کہا کہ میون نے مریخ کے ماحول، آب و ہوا کی تاریخ اور وہاں زندگی کے امکانات سے متعلق ہمارے علم کو بہت آگے بڑھایا ہے۔

یہ خلائی جہاز نہ صرف سائنسی ڈیٹا جمع کرتا تھا، بلکہ مریخ کی سطح پر موجود ناسا کے روورز (جیسے پرسیویرنس اور کیوروسٹی) اور زمین کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ (Communications Relay) بھی تھا۔ اب یہ ذمہ داری مریخ کے مدار میں موجود دیگر خلائی جہازوں کو سنبھالنی ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *