NYPD Probes Strange Activity After People Enter Gravesend Sewer System at Night

انہوں نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیوریج سسٹم میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا انتہائی خطرناک ہے۔

Editor News

نیویارک : امریکی شہر نیویارک کے علاقے بروکلمن میں ایک انتہائی عجیب اور سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں آدھی رات کو ایک درجن سے زائد نامعلوم افراد کو گٹر کے مین ہولز (Manholes) کے اندر جاتے اور پھر چند گھنٹوں بعد باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے واقعے کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پہلا واقعہ بروکلمن کے علاقے گریوزینڈ (Gravesend) میں مکڈونلڈ ایونیو اور کولن پلیس کے قریب پیش آیا، جہاں جمعرات کی رات تقریباً 11 بجے کم از کم 7 افراد کو گٹر کے مین ہول کے ذریعے سیوریج سسٹم کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا۔

یہ تمام افراد رات 2 بجے کے قریب اسی مین ہول سے باہر نکلے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی نیویارک پولیس (NYPD) اور متعلقہ اداروں نے علاقے میں ہنگامی سرچ آپریشن شروع کیا۔ نیویارک پولیس کے 62 ویں پرسینکٹ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ “سیوریج سسٹم میں غیر مجاز افراد کی موجودگی کی اطلاع پر تفصیلی سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ علاقہ اب کسی بھی قسم کے خطرے سے پاک اور محفوظ ہے۔”

ابھی اس واقعے کی تفتيش جاری تھی کہ جمعہ کی رات تقریباً 1 بجے ایک اور گروپ، جس میں 8 افراد شامل تھے، 712 بیڈ فورڈ ایونیو کے قریب ایک دوسرے مین ہول کے ذریعے گٹر میں اترتے دیکھا گیا۔ یہ گروپ صبح 4 بجے کے قریب باہر نکلا اور موقع پر موجود ایک گاڑی میں سوار ہو کر فرار ہو گیا۔

نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف انوائرمنٹل پروٹیکشن (DEP) کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ دونوں مقامات پر سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کا معائنہ کر کے اسے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیوریج سسٹم میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا انتہائی خطرناک ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ “گٹروں کے اندر زہریلی اور جان لیوا گیسیں، سیلابی پانی کا خطرہ اور گنجان گیس چیمبرز جیسے شدید خطرات موجود ہوتے ہیں، اس لیے عوام کو کبھی بھی ان جگہوں پر داخل نہیں ہونا چاہیے۔” پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ان دونوں واقعات کے پیچھے کیا مقاصد تھے اور کیا ان دونوں گروہوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *