Marco Rubio Signals Breakthrough in US-Iran Negotiations Over Strait of Hormuz

نہوں نے مزید بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام ایک انتہائی تکنیکی معاملہ ہے، اس لیے ان پیچیدہ مسائل پر بات چیت اور معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں ابھی مزید وقت لگے گا

Editor News

نئی دہلی/واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ‘نمایاں پیش رفت’ ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دنیا کو اگلے چند گھنٹوں کے اندر اس حوالے سے کوئی ’اچھی خبر‘ سننے کو مل سکتی ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اس متوقع مثبت پیش رفت کا براہِ راست تعلق آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور ایک ایسے سفارتی عمل سے ہے جو بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اصل ہدف یعنی “ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے اور دنیا کو اس کے خوف سے آزاد کرنے” کی طرف لے جائے گا۔

مارکو روبیو نے مذاکرات کی صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا:
“میرا خیال ہے کہ اس سلسلے میں کچھ اچھی خبریں موجود ہیں، اگرچہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ پیش رفت ہوئی ہے، اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی بریک تھرو (کامیابی) حاصل نہیں ہو سکا کیونکہ چیزیں کاغذ پر طے ہونا الگ بات ہے اور ان پر عملی طور پر عملدرآمد ہونا بالکل الگ بات ہے۔”

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے اور یہ ایران کی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ اس بین الاقوامی تجارتی راستے کو استعمال کرنے والے مال بردار بحری جہازوں کو دھمکیاں دے رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سراسر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایران کے اس رویے کو یوں ہی برقرار رہنے دیا گیا تو یہ دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔

مارکو روبیو نے واضح کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کی محنت کے نتیجے میں نہ صرف آبنائے ہرمز کے ذریعے بغیر کسی اضافی ٹیکس یا فیس کے بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بحال کیا جا سکے گا، بلکہ ایران کے جوہری عزائم سے جڑے بنیادی خدشات کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا:”ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی وہ کبھی حاصل کر پائے گا—کم از کم اس وقت تک تو بالکل نہیں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ ریاستہائے متحدہ امریکا کے صدر ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام ایک انتہائی تکنیکی معاملہ ہے، اس لیے ان پیچیدہ مسائل پر بات چیت اور معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں ابھی مزید وقت لگے گا۔ تاہم، کئی اہم امور کے فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے، جس کے مثبت نتائج کے لیے ایران کی منظوری اور اس معاہدے کی پاسداری لازمی ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *