Tourists Face Disruption After Thailand Shortens Visa-Free Entry Duration

بینکاک کے تاریخی مقام 'واٹ ارون' کی سیر کے لیے آئے ہوئے ایک آئرش سیاح ایلکس بریڈی نے اے ایف پی (AFP) کو بتایا:

Editor News

بینکاک(ویب ڈیسک): تھائی لینڈ کی حکومت نے جرائم پر قابو پانے اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پاکستان سمیت 90 سے زائد ممالک کے شہریوں کے لیے بغیر ویزا قیام (Visa-free stays) کی مدت کو 60 دنوں سے کم کر کے دوبارہ 30 دن کرنے کا اچانک فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس غیر متوقع فیصلے نے بینکاک کی مشہور نائٹ لائف اور تفریحی مقامات پر موجود غیر ملکی سیاحوں (Backpackers) کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

دو سال قبل تھائی لینڈ کی حکومت نے کورونا وبا کے بعد گرتی ہوئی سیاحت کو فروغ دینے اور غیر ملکیوں کو زیادہ دیر روکنے کے لیے 60 روز کی ویزا فری اسکیم متعارف کروائی تھی، کیونکہ تھائی لینڈ کی معیشت (GDP) کا 10 فیصد سے زائد حصہ سیاحت پر منحصر ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں غیر ملکیوں کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ، عوامی مقامات پر غیراخلاقی حرکات اور بغیر اجازت ہوٹل و اسکول چلانے جیسے سنگین جرائم میں اضافے کے بعد حکومت کو عوامی ردعمل کا سامنا تھا، جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

سیاحوں کے منصوبے متاثر:
بینکاک کے تاریخی مقام ‘واٹ ارون’ کی سیر کے لیے آئے ہوئے ایک آئرش سیاح ایلکس بریڈی نے اے ایف پی (AFP) کو بتایا:

“ہم یہاں بغیر کسی طے شدہ پلان کے آئے تھے تاکہ دو مہینے تک آرام سے تھائی لینڈ کے جزائر اور پہاڑی علاقوں کی سیر کر سکیں۔ مہنگا ہوائی ٹکٹ خرید کر آنے والے سیاحوں کے لیے 30 دن کی حد بہت کم ہے، اس سے ہماری سفری آزادی بری طرح متاثر ہوگی۔”

ویزا میں توسیع اور ‘ویزا رن’ کی نئی شرائط:
حکام کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت سیاح اب بھی 30 دن پورے ہونے پر امیگریشن آفیسر کی صوابدید کے مطابق مزید 30 دن کی توسیع حاصل کر سکیں گے، لیکن اس کے بعد انہیں ملک چھوڑنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، سیاح سال میں صرف ایک بار ‘ویزا رن’ (Visa run) یعنی قریبی ملک (جیسے لاؤس یا کمبوڈیا) جا کر فوری واپس آنے کی سہولت استعمال کر سکیں گے، جس سے انہیں مزید 60 دن ملیں گے، لیکن اس کے بعد دوبارہ داخلے کے لیے ورک، ایجوکیشن یا ریٹائرمنٹ ویزا درکار ہوگا۔

سیاحتی ایجنسی ‘بینکاک بڈی’ کی مینیجر تانیہ چانسوان کا کہنا ہے کہ ان قوانین کی سختی کے باعث بہت سے سیاح تھائی لینڈ کے بجائے ویتنام کا رخ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ سستا بھی ہے اور وہاں قوانین اتنے سخت نہیں ہیں۔ حکومت نے ابھی تک اس نئی پالیسی کے باقاعدہ نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *