بیجنگ(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں اتفاق کیا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ صدر شی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں مدد کی پیشکش کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی بھی فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کریں گے۔
ملاقات کے دوران چینی صدر نے خبردار کیا کہ تائیوان کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس پر کسی بھی غلط فہمی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک خطرناک موڑ پر جا سکتے ہیں۔ تجارتی محاذ پر دونوں رہنماؤں نے گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنے اور باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
صدر ٹرمپ نے صدر شی کو ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس دورے میں ایلون مسک اور این ویڈیا (Nvidia) کے سی ای او جینسن ہوانگ جیسے بڑے کاروباری رہنما بھی صدر ٹرمپ کے ہمراہ تھے، جس کا مقصد چین کی مارکیٹ تک امریکی صنعتوں کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ میں ایران جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور صدر ٹرمپ کو اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
