نیویارک / اسلام آباد: پاکستان نے کسی بھی فرد، ریاست یا گروہ کی جانب سے، کہیں بھی اور کسی بھی صورتحال میں کیمیائی ہتھیاروں (Chemical Weapons) کے استعمال کی سخت اور اصولی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ مہلک ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی قوانین پر بلا تفریق عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UN Security Council) میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر منعقدہ بریفنگ کے دوران پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا یہ موقف پیش کیا۔
سفیر عثمان جدون نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ‘کیمیائی ہتھیاروں کا معاہدہ’ (Chemical Weapons Convention – CWC) عالمی سطح پر ہتھیاروں کے خاتمے اور غیر مسلح کرنے کے فریم ورک کا ایک بنیادی ستون ہے۔
پاکستان اس معاہدے کو دنیا بھر میں لاگو کرنے (Universalization) اور اس کے مکمل، مؤثر اور غیر امتیازی نفاذ کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے، کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے عالمی ادارے (OPCW) کے ساتھ شامی حکام کے مثبت رویے کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، شام کی جانب سے ‘آرگنائزیشن فار دی پروہبیشن آف کیمیکل ویپنز’ کے ساتھ مکمل تعاون بڑھانے کے عزم کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسے خوش آئند قرار دیتا ہے۔
