Massive Security Plan Announced for FIFA World Cup 2026 in Mexico

فٹ بال کا یہ عالمی میلہ 11 جون سے 19 جولائی 2026 تک جاری رہے گا، جس کی میزبانی میکسیکو کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا مشترکہ طور پر کریں گے۔

Editor News

میکسیکو سٹی (ویب ڈیسک): فیفا ورلڈ کپ 2026 کے شریک میزبان ملک میکسیکو نے ٹورنامنٹ کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً ایک لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے بعض علاقوں میں منشیات فروش گروہوں کے درمیان حالیہ پرتشدد واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبوم نے ورلڈ کپ کے محفوظ انعقاد کے لیے ایک جامع سیکیورٹی منصوبہ پیش کیا ہے جسے مایا تہذیب کے دیوتا کے نام پر ’پلان کوکولکن‘ قرار دیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 99 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں تقریباً 20 ہزار فوجی اور 55 ہزار پولیس افسران شامل ہوں گے۔ سیکیورٹی آپریشن کے لیے جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جائے گی جس میں 24 طیارے، اینٹی ڈرون سسٹمز اور دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانے والے تربیت یافتہ کتے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تقریباً 2,500 فوجی اور شہری گاڑیاں مختلف شہروں میں گشت اور نگرانی کے لیے استعمال کی جائیں گی۔

ورلڈ کپ کے میچز میکسیکو کے تین شہروں میکسیکو سٹی، مونٹیری اور گواڈلہارا میں کھیلے جائیں گے۔ گواڈلہارا، جو ریاست جلیسکو کا دارالحکومت ہے، حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ گزشتہ ماہ منشیات فروش گروہ CJNG کے سربراہ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت کے بعد علاقے میں پرتشدد واقعات دیکھنے میں آئے تھے۔

فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے میکسیکو کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے انعقاد پر تشدد کے واقعات کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ٹورنامنٹ محفوظ ماحول میں منعقد ہوگا۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا افتتاحی میچ میکسیکو سٹی میں میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ اس کے علاوہ گواڈلہارا میں یورپی چیمپئن اسپین اور یوراگوئے کے درمیان اہم مقابلہ بھی شیڈول ہے۔ اگر آئرلینڈ پلے آف مرحلہ جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اسی شہر میں جنوبی کوریا کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گا۔

فٹ بال کا یہ عالمی میلہ 11 جون سے 19 جولائی 2026 تک جاری رہے گا، جس کی میزبانی میکسیکو کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا مشترکہ طور پر کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *