البانی، نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے جمعہ کو ایک اہم بل پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی ہے، جس کے تحت اب ڈینٹل ہائجینسٹ ڈینٹسٹ کی براہِ راست نگرانی یا موجودگی کے بغیر بھی دانتوں کی صفائی کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد ریاست بھر میں دانتوں کے معالجین کی کمی کو پورا کرنا اور شہریوں کے لیے ڈینٹل خدمات تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
اس بل کی اسپانسر اسمبلی ممبر ایمی پالن نے اسے طویل عرصے سے درکار اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک اس وقت دانتوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تربیت یافتہ ڈینٹل ہائجینسٹ موجود ہیں جو مزید ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسٹیٹ سینیٹر رچل مے کے مطابق یہ قانون خاص طور پر دیہی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، جہاں ڈینٹل کلینکس اور ماہرین کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
نیویارک اسٹیٹ ڈینٹل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مورس ایڈورڈز نے بھی اس قانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے علاج کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے خدمات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق اس قانون کا باقاعدہ اطلاق جولائی 2027 سے شروع ہوگا۔
دریں اثنا ریاستی حکومت نے ڈینٹل ہائجینسٹ کی کمی کو دور کرنے کے لیے تعلیمی مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ سال 2026 کے ریاستی بجٹ میں ہائی ڈیمانڈ دو سالہ ڈگری پروگرامز کے لیے مفت ٹیوشن فراہم کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے، جس میں ڈینٹل ہائجینسٹ کا شعبہ بھی شامل ہے۔
متعلقہ قومی اداروں کے مطابق ملک بھر میں ڈینٹل ہائجینسٹ کی دستیابی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے پیش نظر ایسے اقدامات کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
