American Embassy Urges Voluntary Exit as Iran-Israel Tensions Escalate

رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ نے خطے میں اپنے فوجی اثاثوں کی نقل و حرکت بھی تیز کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

Editor News

تل ابیب/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث امریکہ نے اسرائیل میں تعینات اپنے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

عالمی میڈیا اور امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کے مطابق، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکبی نے سفارت خانے کے ملازمین کو ایک ہنگامی ای میل بھیجی ہے۔ ای میل کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

جو ملازمین یا ان کے خاندان رضاکارانہ طور پر نکلنا چاہتے ہیں، وہ آج ہی روانگی کا بندوبست کریں۔

سفیر نے خبردار کیا کہ مسافروں کے دباؤ کی وجہ سے آنے والے گھنٹوں میں پروازوں میں نشستوں کی کمی ہو سکتی ہے۔

بن گوریون ایئرپورٹ: عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی مخصوص فلائٹ کا انتظار کرنے کے بجائے دستیاب پہلی پرواز سے ملک سے باہر نکلیں۔

اگرچہ سفیر نے “گھبرانے کی ضرورت نہیں” کا پیغام دیا ہے، تاہم احتیاطاً جلد از جلد نکلنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی سفارت خانے کا یہ اقدام خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم کے خدشے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ جوابی حملوں کے پیشِ نظر سکیورٹی الرٹ ہائی کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل واشنگٹن سے بھی ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی تھی جس میں غیر ہنگامی عملے کو نکلنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ نے خطے میں اپنے فوجی اثاثوں کی نقل و حرکت بھی تیز کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

امریکہ کا اپنے عملے کو ‘آج ہی’ نکلنے کی ہدایت دینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سفارتی حلقے آنے والے چند گھنٹوں یا دنوں میں صورتحال مزید بگڑنے کی توقع کر رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *