میلان (ویب ڈیسک): امریکی آئس ہاکی ٹیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے روایتی حریف کینیڈا کو ایک اعصاب شکن فائنل میں 2-1 سے شکست دے کر اولمپک گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ یہ 1980 کے مشہورِ زمانہ “Miracle on Ice” کے بعد امریکہ کا پہلا اولمپک ٹائٹل ہے۔
کھیل کے مقررہ وقت تک مقابلہ 1-1 سے برابر تھا، لیکن اوور ٹائم کے آغاز کے محض 1 منٹ 41 سیکنڈ بعد جیک ہیوز نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔ امریکہ کی جانب سے پہلا گول میٹ بولڈی نے میچ کے چھٹے منٹ میں کیا تھا۔
امریکی فتح کے اصل ہیرو گول کیپر کونر ہیلی بک (Connor Hellebuyck) رہے، جنہوں نے کینیڈا کے 42 میں سے 41 شاٹس کو ناکام بنایا۔ انہوں نے دنیا کے بہترین کھلاڑی کونر میک ڈیوڈ اور میکلن سیلیبرینی کے خطرناک حملوں کو روک کر کینیڈا کو گول کرنے سے باز رکھا۔
کینیڈا، جو گزشتہ 16 سالوں سے بین الاقوامی ہاکی پر حکمرانی کر رہا تھا، اپنے کپتان سڈنی کروسبی کی انجری کے باعث کمی محسوس کرتا رہا۔ کونر میک ڈیوڈ کی قیادت میں کینیڈین ٹیم نے سر توڑ کوشش کی مگر وہ امریکی دفاع کو توڑنے میں ناکام رہی۔
یہ جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اب ہاکی کی دنیا میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ ٹیم کے 25 میں سے 23 کھلاڑی امریکی نیشنل ٹیم ڈویلپمنٹ پروگرام کا حصہ رہے ہیں، جس کا فائدہ آج میلان کے برفیلے میدان میں نظر آیا۔
