میڈیم کا بڑا فیصلہ: ملازمین کو ICE کے خلاف ہڑتال میں شرکت کی اجازت

حالیہ مہینوں میں چھاپوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں صرف منیاپولس میں کئی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

Editor News

سان فرانسسکو(ویب ڈیسک): جہاں ایک طرف اے آئی (AI) کے دور میں ٹیک کمپنیاں کام کے شدید دباؤ کے لیے جانی جاتی ہیں، وہیں ‘میڈیم’ نے انسانی حقوق اور سماجی انصاف کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے عملے کو احتجاج کا حصہ بننے کی آزادی دے دی ہے۔

یہ احتجاجی مہم “No Work, No School, No Shopping” کے نعرے کے تحت چلائی جا رہی ہے۔مہم میں شریک ہونےوالے مظاہرین نےمطالبہ کیاہےکہ
‘آئس’ (ICE) کے فنڈز فوری بند کیے جائیں۔
یہ احتجاج حال ہی میں منیاپولس میں ہونے والے چھاپوں کے بعد شروع ہوا جس میں دو امریکی شہریوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بارڈر کنٹرول ایجنٹس کو امریکی شہروں سے فوری طور پر نکالا جائے۔

ٹونی اسٹبل بائن نے کمپنی کے سلیک (Slack) چینل پر پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کوئی کمپنی کا حکم (Mandate) نہیں بلکہ ہر فرد کا انفرادی فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا:”میڈیم لوگوں کی سیاست ڈکٹٹ کرنے کے کاروبار میں نہیں ہے۔ آپ کل کا پورا دن کام سے چھٹی کرنا چاہیں، جزوی کام کرنا چاہیں یا اپنے کام کو ہڑتال کے مقاصد کے مطابق ڈھالنا چاہیں، یہ آپ کی مرضی ہے۔”

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی ٹیک انڈسٹری دو حصوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے:

گوگل ڈیپ مائنڈ کے جیف ڈین جیسے رہنماؤں اور 500 سے زائد ٹیک ملازمین نے اوپن لیٹر کے ذریعے ‘آئس’ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

دوسری طرف ایپل کے سی ای او ٹم کک سمیت کئی بڑے ایگزیکٹوز کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات اور دستاویزی فلم کی اسکریننگ میں شرکت پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار: امریکی امیگریشن اور ڈی ای آئی (DEI) پر دباؤ
حالیہ صورتحال میں تارکین وطن اور تنوع کے حوالے سے کچھ اہم حقائق درج ذیل ہیں:

حالیہ مہینوں میں چھاپوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں صرف منیاپولس میں کئی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے تنوع، مساوات اور شمولیت (DEI) کے پروگراموں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ میڈیم جیسے اداروں نے ان پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بہت سی بڑی ٹیک کمپنیاں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے بھاری فنڈز دے رہی ہیں، جس کے برعکس میڈیم نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *