کولکتہ/ دہلی(ویب ڈیسک): بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاریاں خدشات کا شکار ہو گئی ہیں۔ یہ ایونٹ 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونا ہے، تاہم وائرس کے پھیلاؤ نے منتظمین اور شائقین میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
مغربی بنگال میں اب تک 5 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں کولکتہ کی دو نرسیں بھی شامل ہیں جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
طبی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 100 سے زائد افراد کو فوری طور پر قرنطینہ کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے ایک “ہائی رسک” اور انتہائی خطرناک وائرس قرار دیا ہے۔
یہ وائرس بنیادی طور پر چمگادڑوں سے انسانوں (عموماً آلودہ پھلوں کے ذریعے) میں منتقل ہوتا ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وائرس کے خلاف اب تک کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔
یہ بحران ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب بین الاقوامی ٹیمیں اور ہزاروں شائقین ورلڈ کپ کے لیے بھارت پہنچنا شروع ہو رہے ہیں۔ وائرس کی بڑھتی ہوئی لہر کے باعث ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
