امریکی صدر ٹرمپ پروازسے قبل طیارےمیں فنی خرابی

وائٹ ہاؤس کے مطابق احتیاطی تدبیر کے طور پر ایئر فورس ون کو جوائنٹ بیس اینڈریوز واپس لایا گیا،

Editor News

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طیارہ منگل کی شب سوئٹزرلینڈ کے لیے روانگی کے کچھ ہی دیر بعد ایک معمولی برقی خرابی کے باعث واپس ایئر بیس پر اترگیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق احتیاطی تدبیر کے طور پر ایئر فورس ون کو جوائنٹ بیس اینڈریوز واپس لایا گیا، جہاں طیارہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 0400 جی ایم ٹی پر لینڈ کر گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ یہ فیصلہ مکمل احتیاط کے تحت کیا گیا۔ صدر کے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے مطابق پرواز کے فوراً بعد طیارے کے کیبن کی لائٹس چند لمحوں کے لیے بند ہو گئی تھیں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز واپسی کے بعد صدر ٹرمپ نے بدھ کی صبح دوبارہ ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے لیے روانگی اختیار کی۔ اس موقع پر صدر اور ان کے وفد نے طیارہ تبدیل کیا اور ابتدائی پرواز کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد، 0500 جی ایم ٹی کے فوراً بعد دوبارہ اڑان بھری۔

نیلے اور سفید روایتی رنگوں کے ساتھ ایئر فورس ون دنیا کے سب سے معروف طیاروں میں شمار ہوتا ہے اور امریکی صدارت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ طویل عرصے سے موجودہ ایئر فورس ون طیاروں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یہ دونوں انتہائی جدید سہولیات سے لیس بوئنگ 747-200 بی سیریز کے طیارے ہیں جو 1990 میں صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور میں سروس میں آئے تھے۔

گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ نئے بوئنگ 747-8 طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ان کی انتظامیہ متبادل آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ مئی میں پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے قطر کی جانب سے پیش کردہ ایک بوئنگ 747 طیارہ ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کے لیے قبول کیا تھا۔

یہ طیارہ، جس کی مالیت سینکڑوں ملین ڈالر بتائی جاتی ہے، غیر ملکی حکومت کی جانب سے عطیہ کیے جانے کے باعث آئینی، اخلاقی اور سکیورٹی سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے، کیونکہ ایئر فورس ون انتہائی حساس صدارتی طیارہ تصور کیا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *