پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ہفتے کے روز کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دو نئی مجوزہ فرنچائزز کے لیے نیلامی 8 جنوری کو ہوگی۔
یہ اعلانات نیویارک میں پی سی بی کے انویسٹر روڈ شو کے دوران کیے گئے، جو لیگ کو چھ سے آٹھ ٹیموں تک وسعت دینے کے ممکنہ منصوبے سے قبل تجارتی دلچسپی حاصل کرنے کے لیے بیرونِ ملک تشہیری مہم کا حصہ تھا۔
پی سی بی پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکا ہے کہ لیگ میں توسیع زیر غور ہے، تاہم نئی فرنچائزز کے اضافے کی باضابطہ منظوری ابھی نہیں دی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی سی بی نے مظفرآباد کرکٹ اسٹیڈیم کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اس کی تزئین و آرائش کا کام شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ اسٹیڈیم کو پی ایس ایل سے قبل تیار کر لیا جائے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹورنامنٹ سے پہلے تکمیل کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا“ہم نے مظفرآباد کے اسٹیڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ہمارا ہدف ہے کہ اسے پی ایس ایل سے پہلے تیار کر لیں۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو اس سال کے اندر کام شروع کر دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ نئی فرنچائزز کے لیے بولیوں کی آخری تاریخ بڑھا کر 22 دسمبر کر دی گئی ہے، جس کی وجہ ممکنہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی ہے۔
اتوار کے روز پی ایس ایل کی ٹرافی نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں نمائش کے لیے رکھی گئی، جہاں پاکستانی کرکٹ شائقین نے تصاویر بنوائیں اور کھلاڑیوں و حکام سے مختصر ملاقاتیں کیں۔
پی سی بی کے مطابق اس تقریب کا مقصد بیرونِ ملک شائقین میں لیگ کی مقبولیت بڑھانا تھا۔ اس موقع پر قومی کرکٹر شان مسعود کے علاوہ سابق کھلاڑی وسیم اکرم اور رمیز راجا بھی موجود تھے۔
بورڈ نے بتایا کہ موجودہ قومی ٹیم کے چند ارکان بھی اس تقریب میں شریک تھے، تاہم کسی قسم کی آفیشل میچ یا کرکٹ سرگرمی کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ پی ایس ایل کے ترانوں سے وابستہ گلوکار علی ظفر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
نیویارک سے قبل پی سی بی نے رواں سال لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں بھی اسی نوعیت کی تشہیری سرگرمی انجام دی تھی۔ پی سی بی کے مطابق یہ تمام اقدامات لیگ کی تجارتی قدر اور روایتی مارکیٹس سے باہر اس کی پہچان بڑھانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
2016 میں شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ پاکستان کی سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ بن چکی ہے، جس کے ابتدائی سیزنز مکمل طور پر بیرونِ ملک کھیلے گئے، بعد ازاں مرحلہ وار پاکستان کے میدانوں میں واپسی ہوئی۔
اگرچہ لیگ نے بین الاقوامی کھلاڑیوں اور براڈکاسٹرز کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے، تاہم پاکستان کے مصروف بین الاقوامی کرکٹ شیڈول اور دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگز کے باعث اسے شیڈولنگ کے مسائل کا سامنا بھی رہا ہے۔
پی سی بی نے تاحال 2026 کے سیزن کے لیے مقامات، پلیئر ڈرافٹ اور نئی ٹیموں کی حتمی منظوری سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔
