لندن (ویب ڈیسک): برطانوی حکومت کے وزراء اور محکمہ تعلیم (DfE) نے اساتذہ اور والدین کو خبردار کیا ہے کہ اسکول کے بچے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے حامل چیٹ بوٹس کے ساتھ اس حد تک جذباتی لگاؤ پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ انہیں اپنے حقیقی زندگی کے دوست سمجھنا شروع کر دیں۔ حکومت نے اساتذہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ خاص طور پر ایسے کمزور اور تنہائی کا شکار بچوں پر نظر رکھیں جو ٹیکنالوجی کے ساتھ غیر معمولی وابستگی قائم کر رہے ہیں۔
اسکولوں اور کالجوں کے لیے حکومت کی معاونت سے تیار کردہ ‘اے آئی گائیڈنس’ کی نئی اپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے حقیقی زندگی میں سماجی تعلقات استوار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، وہ اپنی ذاتی معلومات اور جذبات اے آئی (AI) کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تربیتی دستاویز میں واضح طور پر لکھا گیا ہے:
“یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اے آئی سسٹمز کے پاس حقیقی انسانی سمجھ بوجھ یا ہمدردی (Empathy) نہیں ہوتی۔ وہ وہ حفاظتی نگرانی (Safeguarding Oversight) فراہم کرنے سے قاصر ہیں جو ایک کمزور انسان کے ساتھ حقیقی انسانی تعلقات کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔”
ایک طرف جہاں اس گائیڈ لائنز میں اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے انتظامی بوجھ کو کم کرنے، سبق کے خاکے (Lesson Plans) تیار کرنے اور خصوصی بچوں (SEND) کے لیے تعلیمی مواد تیار کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال بڑھائیں، وہیں دوسری طرف حساس معاملات میں “انتہائی محتاط” رہنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ گائیڈ لائنز کے مطابق، بچوں کے مستقبل اور ان کی ذہنی صحت سے متعلق اہم ترین فیصلے کبھی بھی ٹیکنالوجی کے سپرد نہیں کیے جانے چاہئیں۔
اس تشویشناک انتباہ کے باوجود، برطانوی وزراء اپنے اس منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں جس کے تحت پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بچوں کو تعلیم کے لیے ‘اے آئی ٹیوٹرز’ (AI Tutors) فراہم کیے جائیں گے۔ اس متضاد پالیسی کے بعد تعلیمی حلقوں اور ماہرینِ نفسیات میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اے آئی ٹیوٹرز بچوں کی پڑھائی میں مددگار ثابت ہوں گے یا وہ انہیں حقیقی دنیا کے رشتوں اور دوستوں سے مزید دور کر دیں گے۔
