نیویارک: اقوامِ متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل کے پانچ نئے غیر مستقل ارکان کا انتخاب کر لیا ہے، جو یکم جنوری 2027 سے اپنی دو سالہ مدت کا آغاز کریں گے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور اہم بین الاقوامی تنازعات کے ماحول میں ہونے والے اس انتخاب نے کئی غیر متوقع نتائج سامنے لائے، جن میں کرغیزستان کی تاریخی کامیابی اور جرمنی کی ناکامی نمایاں رہی۔
ایشیا پیسیفک نشست پر کرغیزستان کی تاریخی فتح
ایشیا پیسیفک گروپ کی واحد نشست کے لیے کرغیزستان اور فلپائن کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی مرحلے میں کرغیزستان کو 105 جبکہ فلپائن کو 85 ووٹ حاصل ہوئے، تاہم دونوں ممالک مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکے۔
اس کے بعد مزید تین مراحل میں ووٹنگ کرائی گئی۔ فیصلہ کن چوتھے مرحلے میں کرغیزستان نے 142 ووٹ حاصل کر کے فلپائن کے 49 ووٹوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور کامیابی اپنے نام کر لی۔ یہ اقوامِ متحدہ میں 1992 میں شمولیت کے بعد پہلا موقع ہے کہ کرغیزستان سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے۔ کامیابی کے اعلان کے بعد کرغیز وفد نے جنرل اسمبلی میں خوشی کا اظہار کیا۔
یورپی گروپ میں جرمنی کو دھچکا
مغربی یورپ اور دیگر ریاستوں کے گروپ (WEOG) کی دو نشستوں کے لیے آسٹریا اور پرتگال کامیاب قرار پائے۔ پرتگال نے 134 اور آسٹریا نے 131 ووٹ حاصل کر کے پہلے ہی مرحلے میں مطلوبہ حمایت حاصل کر لی۔
اس مقابلے میں جرمنی صرف 104 ووٹ حاصل کر سکا اور نشست جیتنے میں ناکام رہا۔ جرمن سفارتی حلقوں نے نتائج کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ بعض ممالک نے برلن کی خارجہ پالیسی، خصوصاً یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق مؤقف کے باعث اس کی حمایت نہیں کی۔
زمبابوے اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو بھی منتخب
افریقی گروپ کی نشست پر زمبابوے نے 182 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی، جبکہ لاطینی امریکہ اور کیریبین گروپ سے ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو 181 ووٹ لے کر منتخب ہو گیا۔ دونوں ممالک کو اپنے اپنے گروپس میں وسیع حمایت حاصل رہی۔
2027 سے سلامتی کونسل کا نیا منظرنامہ
منتخب ہونے والے پانچ نئے ممالک 2026 کے اختتام پر اپنی مدت مکمل کرنے والے پاکستان، ڈنمارک، یونان، پاناما اور صومالیہ کی جگہ لیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے جبکہ دس ممالک دو سال کے لیے غیر مستقل ارکان کے طور پر منتخب کیے جاتے ہیں۔
اصلاحات کے مطالبات میں اضافہ
یہ انتخاب ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب یوکرین اور غزہ سمیت مختلف عالمی تنازعات پر سلامتی کونسل کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متعدد ممالک کا مؤقف ہے کہ ویٹو پاور کے بار بار استعمال نے کونسل کی مؤثریت کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث اس کے ڈھانچے اور طریقہ کار میں اصلاحات کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
