Iran Confirms Backchannel Talks With United States Through Pakistan

پاکستان کی ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان بیک چینل (بالواسطہ) سفارتی مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

Editor News

تہران/اسلام آباد: ایران نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تہران کے 14 نکاتی فارمولے کو عوامی سطح پر مسترد کیے جانے کے باوجود، پاکستان کی ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان بیک چینل (بالواسطہ) سفارتی مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے 14 نکات پر مبنی ایک جامع منصوبہ واشنگٹن کو بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ امریکی حکام نے عوامی سطح پر اسے مسترد کرنے کا بیان دیا، لیکن سفارتی محاذ پر واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے ایران کو ایک ترمیمی تجاویز کا مسودہ بھیجا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا، “گزشتہ ہفتے ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکہ کی نظرثانی شدہ تجاویز موصول ہوئیں، جن کا ہم نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنا جواب دوبارہ پاکستان ہی کے مروجہ چینل سے امریکہ تک پہنچا دیا ہے۔”

 سفارتی ذرائع کے مطابق، رواں سال خلیجی خطے میں پاک-امریکہ اور ایران تناؤ کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی کو پائیدار بنانے کے لیے اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان اس وقت خطے میں ایک انتہائی اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو چین اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔

مذاکرات کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب عالمی توانائی کی منڈیوں، علاقائی سلامتی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے تجارتی راستوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *