واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک “عظیم ملک” قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو ’شاندار شخصیات‘ قرار دیتے ہوئے ان کے فعال کردار کو سراہا۔
خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی اور کہا کہ تہران کو امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے امریکی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز محفوظ رہے اور ایرانی ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کو تباہ کر دیا گیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کا پہلا دورِ اقتدار ختم ہو چکا ہے، دوسرا غیر فعال ہو گیا ہے اور اب واشنگٹن تیسرے دورِ اقتدار (third regime) سے نمٹ رہا ہے۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایران جلد ہی معاہدے پر دستخط کر دے گا، اور واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدے سے انکاری رہا تو “انتہائی سخت کارروائی” عمل میں لائی جائے گی۔
